دیباچہ
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جس جماعت کے لوگ آپ سے اس قسم کے سوالات کرتے ہیں وہ اپنے نظریہ کے مطابق اس ملک کو دارالطاغوت سمجھتے رہے ہیں۔ اب وہ اس ملک کو دارالدعوہ کہتے ہیں اور اپنے دعوے کے مطابق دعوتی کام میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دارالدعوہ کا یہ تصور ان کو کہاں سے ملا۔ یقینی طور پر وہ انہیں راقم الحروف کی تحریروں سے ملا۔ ان کے اپنے جماعتی نظریہ کے مطابق، تو یہ ملک ان کے لئے صرف دارالطاغوت تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ان کے لئے صرف یہ ممکن تھا کہ وہ اس طاغوتی نظام سے لڑیں۔ پھر یا تو اسی راہ میں اپنی جان دے دیں یا اس کو اسلامی نظام میں تبدیل کر دیں۔ ان کے مسلمہ عقیدہ کے مطابق ، سیاسی نظام کو بدلے بغیر دعوت کے کام کا انجام پانا ممکن ہی نہیں۔ راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے ان حضرات کو بتایا کہ جس ملک کو تم غلط طور پر دارالطاغوت سمجھتے ہو وہ دراصل دارالدعوہ ہے یعنی یہاں آج بھی پر امن انداز میں دعوت کا عمل انجام دیا جا سکتا ہے۔ ان حضرات کے نظریہ کے مطابق، ہندوستان جیسے ملک میں ان کیلئے صرف دو ہی امکانی صورت تھی ۔ ایک یہ کہ مفروضہ طاغوتی نظام سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرنا ، یا منافقانہ سمجھوتہ کرکے اس کے اندر زندگی گزارنا۔ راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے ان کو اس دو طرفہ مصیبت سے نجات دی۔ ایسی حالت میں یہ حضرات میرے خلاف جو بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں وہ بے حد سنگین ہے۔ اندیشہ ہے کہ ان کی یہ روش انہیں اس حدیث رسول کا مصداق بنادے : من لم يشكر الناس لم يشكر الله (احمد، الترمذی، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، جلد ۲ صفحه ۹۱۱) نادان نے کہا کہ ....... میں نے اپنا ماضی اور حال دونوں برباد کر دیا دانش مند بولا : مگر مستقبل تو برباد نہیں ہوا۔ (الرسالہ اکتوبر ۸۹)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader