دیباچہ
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ کاذبوں کو ڈھیل نہیں دیتا۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ ۔۔۔۔۔ اور وہ کوئی بات گھڑ کر ہمارے اوپر لگاتا۔ تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑتے۔ پھر ہم اس کی رگ دل کاٹ دیتے ۔ پھر تم میں سے کوئی اس سے ہم کو روکنے والا نہ ہوتا۔ (الحاقہ ۴۴۔۴۷) اس صورت میں اگر مرزا غلام احمد قادیانی صاحب جھوٹے تھے تو کیا وجہ ہے کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی گرفت نہیں کی؟ (بہادر خاں، بارہمولہ، جموں و کشمیر) جواب یہ ایک مغالطہ ہے، نہ کہ استدلال۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں نہیں کہا گیا ہے کہ ’’جو لوگ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں‘‘ بلکہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ ’’اگر وہ بات گھڑتا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت کا تعلق صرف ایک شخص، یعنی محمد بن عبداللہ سے ہے۔ اس آیت میں کوئی عام حکم بیان نہیں ہوا ہے۔ اس کا تعلق متعین طور پر ذات رسول سے ہے۔ آپ کے معاصرین آپ کے بارے میں اس قسم کا الزام لگاتے تھے، اس لئے اُن کے جواب میں یہ آیت اتاری گئی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اقرار یا انکار سے آپ کے معاصرین کی جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا تھا۔ اس لئے آپ کے بارے میں یہ سخت اعلان کیا گیا۔ جہاں تک جھوٹے مدعیانِ نبوت کا تعلق ہے ان کے مخاطبین کے بارے میں اللہ کی یہ سنت نہیں۔ ان لوگوں کا فیصلہ آخرت میں ہوگا، نہ کہ دنیا میں۔ سوال میں بہار کے ایک میڈیکل کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا طالب علم ہوں ۔ یہ ایک اقلیتی ادارہ ہے جس میں ۵۰ فیصد سیٹ مسلمانوں کے لئے ریزرو ہے۔ یہ کالج A.I.C.T.E سے ریکگنائزڈ ہے اور وقتی طور پر مگدھ یونیورسٹی سے اس کا الحاق بھی ہے۔ مگر یونیورسٹی لڑکوں کا امتحان وقت پر نہیں لیتی۔ یونیورسٹی بار بار الزام عائد کرتی ہے کہ کالج ریگولر طریقہ پر نہیں چلتا ہے۔ اس لئے اس کا کوئی کام وقت پر کرنا مناسب نہیں ۔ جب کہ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی خود بدعنوانی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader