Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال ہندوستان میں ہندو مسلم مسئلہ بہت پرانا ہے۔ وہ ۱۹۴۷ سے پہلے بھی تھا اور ۱۹۴۷ کے بعد بھی باقی ہے ۔ آپ کے نزدیک اس مسئلہ کی جڑ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟۔ آپ اس مسئلہ کا ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں؟۔ (نصیر احمد، سہرسا) جواب میرے نزدیک یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ یعنی اس معاملہ کی پچاس فیصد ذمہ داری ہندوؤں پر ہے اور پچاس فیصد ذمہ داری مسلمانوں پر۔ ہندوؤں کی غلطی کی جڑ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو’’غیر‘‘ کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ حالانکہ ہندوستانی مسلمانوں کی ۹۹ فیصد تعداد خود ہندوؤں سے ہی نکل کر آئی ہے۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ سارے مذاہب ایک ہیں اور تمام مذاہب سچے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر کچھ ہندوؤں نے ہندو مذہب کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کر لیا تو ہندو عقیدہ کے مطابق، وہ ایک سچے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے سچے مذہب میں داخل ہو گیا ۔ ایسی حالت میں کم از کم ہندوؤں کو ہرگز اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور نہ ایسے مسلمانوں کو غیر سمجھنا چاہئے۔ مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ قدیم ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کو’’ اسلامی حکمراں‘‘ قرار دیتے ہیں اور ان کا دفاع اسی طرح کرتے ہیں جس طرح انھیں اسلام کا دفاع کرنا چاہئے۔ چونکہ ہندوان حکمرانوں کو حملہ آور سمجھتے ہیں اس لئے جب مسلمان ان کی حمایت کرتے ہیں تو ہندوؤں کو ایسے مسلمانوں سے بھی شکایت ہو جاتی ہے ۔ میرے نزدیک دونوں ہی طرف یہ صرف سوچ کی ایک غلطی کا معاملہ ہے، وہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ سوال عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قائد نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟۔ آپ کے خیال میں اگر کوئی قائد ہے تو وہ کون ہے؟۔ اگر کوئی قائد نہیں ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟۔ آخر مسلم ملت قیادت سے خالی کیوں ہو رہی ہے؟۔ (نسیم احمد عظمی، منٹو)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page