Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

شکار ہے۔ میں دو سال سے فرسٹ ایئر میں ہوں مگر ابھی تک امتحان ہونے کی کوئی امید نہیں۔ اس کے متعلق کئی بار گورنر اور وائس چانسلر سے بات ہو چکی ہے پھر بھی کوئی مثبت جواب نہیں مل پایا۔ اس حال میں ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیئے؟ برائے کرم آپ کوئی مشورہ دیں (خالد علی خاں ۔ بہار) جواب میں ذاتی طور پر رعایتی ادارے قائم کرنے کے خلاف ہوں اور رعایتی داخلہ کے بھی خلاف ہوں۔ میرے نزدیک زندگی مقابلہ کا نام ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ مقابلہ کرو یا ختم ہو جاؤ: compete or perish۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اب سے یہ فیصلہ کریں کہ آپ محنت کے ذریعہ دنیا میں اپنا مقام بنائیں گے، نہ کہ رعایت کے ذریعہ۔ شکایت ہمیشہ رعایت چاہنے والوں کو ہوتی ہے۔ جو لوگ محنت کا طریقہ اختیار کریں، انہیں کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوتی۔ جو لوگ رعایتی ادارے کھولتے ہیں، ریزرویشن کی اہمیت پر تقریریں کرتے ہیں وہ خود اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کرتے ہیں جہاں سخت مقابلہ کا ماحول ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اصل مسئلہ کسی نہ کسی طرح ڈگری حاصل کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ زندگی میں ترقی کرنے کا ہے۔ زندگی میں اعلیٰ ترقی کبھی رعایت اور رزرویشن کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اعلیٰ لیاقت کی بنیاد پر ہوتی ہے اور اعلیٰ لیاقت محنت سے آتی ہے نہ کہ رعایت سے۔ سوال الرسالہ میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی کے خلاف مسلمانوں کو صبر کی روش اختیار کرنا چاہیئے ۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی پر صبر کرنا تو ظلم و زیادتی کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس شبہہ کا کیا جواب ہے۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی) جواب اس سلسلہ میں پہلی بات یہ کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ارشاد ہوا ہے کہ: ولنصبرن علی ما آذیتمونا (ابراہیم۱۲) یعنی تمہاری ایذاؤں پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اگر ظلم و زیادتی پر صبر کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page