دیباچہ
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا تو پیغمبروں کو کبھی اللہ کی طرف سے یہ تعلیم نہ دی جاتی جو مذکورہ آیت کے مطابق انہیں دی گئی۔ اصل یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر اس کے خلاف جوابی تدبیر کو تدبیر سمجھتے ہیں مگر یہ صرف ایک جذباتی ردِ عمل ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔ ایسے مواقع پر جوابی تدبیر صرف مسئلہ کو بڑھاتی ہے۔ وہ فریق ثانی کے اندر ضد اور انتقام کی آگ بھڑکا کر مسئلہ کو شدید تر بنا دیتی ہے۔ وہ کسی حال میں مسئلہ کا حل نہیں۔ صبر کا مطلب عدم عمل نہیں، صبر کا مطلب زیادہ مؤثر عمل ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی پیش آمدہ مسئلہ کو جذباتی تدبیر کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر والا آدمی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بے صبری کا طریقہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور صبر کا طریقہ ہمیشہ کامیاب۔ اس معاملہ کی ایک معلوم اور معروف مثال یہ ہے کہ ہر سال ہندو لوگوں کی طرف سے گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ ابتداء مسلمان یہ کرتے تھے کہ گن پتی کا جلوس ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا تو وہ روک ٹوک کرتے۔ وہ جلوس کی روٹ بدلنے کی مانگ کرتے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا اور خونی فساد کی نوبت آ جاتی۔ اب اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ کی تعمیری مہم کے نتیجہ میں اس معاملہ میں مسلمان صبر و اعراض کی حکمت کو سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ اب بھی ہر سال پہلے کی طرح گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ جلوس والے اب بھی وہی کرتے ہیں جو وہ پہلے کرتے تھے۔ مگر اب کئی سالوں سے گن پتی کے جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد کا ہونا تقریباً بند ہو گیا ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اب مسلمان گن پتی کے جلوس کے موقع پر صبر و اعراض کا فارمولہ اختیار کرتے ہیں، جب کہ اس سے پہلے وہ بے صبری اور جذباتیہ اختیار کئے ہوئے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader