Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب مذکورہ قسم کی قرآنی آیتوں میں جو ذکر بتایا گیا ہے اس سے مراد ذکر قولی نہیں ہے بلکہ ذکر حالی ہے۔ یعنی ان کا وجود اللہ کی قدرت کو بیان کر رہا ہے ۔ مثلاً سورج ہم کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے۔ اس روشنی اور حرارت میں انسان کے لئے مفید پہلو بھی ہے اور مضر پہلو بھی۔ مگر فطرت کے مخصوص نظام کے تحت انسان کو سورج کا صرف مفید پہلو پہنچتا ہے، اس کے مضر پہلو سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ یہی معاملہ دنیا کی دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، مذہب اور جدید چیلنج) جن چیزوں کو آپ گندی چیزیں کہہ رہے ہیں ان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مثلاً زمین پر جب بھی کہیں کوئی گندی چیز ظاہر ہوتی ہے، جیسے جانور کا بول و براز، تو فوراً ہی وہاں لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریایا اور کیڑے جمع ہوجاتے ہیں جو ڈی کمپوز (de-compose) کرکے اسکو فضا میں تحلیل کر دیتے ہیں۔ اگر فطرت کا یہ نظام نہ ہوتا تو موجودہ زمین پر انسان کیلئے زندگی گزارنا ممکن ہو جائے ۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لئے عبرت اور نصیحت بن سکیں ۔ اس دنیا کی ہر چیز خواہ وہ پھول ہو یا کانٹا، انسان کو کوئی نہ کوئی اعلیٰ پیغام دے رہی ہے ۔ مثلاً درخت یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تم یکطرفہ طور پر، دوسرے انسانوں کے لئے نفع بخش بنو۔ حتیٰ کہ ان چیزوں میں بھی گہرا سبق ہے جن کو آپ گندی چیز سمجھ رہے ہیں مثلاً یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی نادانی سے گندگی کرے تو تم اس کو مزید بکھیرنے والے نہ بنو بلکہ پہلی فرصت میں اس کو صاف کرنے کی کوشش کرو۔ تمہارا کام لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالنا چاہیے ، نہ کہ اس کی تشہیر کر کے لوگوں کو بدنام کرنا۔ سوال ا۔ آپ کے مشن سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمانوں کو صالح بنانے سے پہلے غیر مسلموں کو کس طرح دعوت دی جائے ؟۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page