Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب یہ سوال بہت زیادہ دہرایا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک وہ درست نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کا مسئلہ فقدان قیادت نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مسئلہ فقدانِ قبولیت قیادت ہے۔ ایک ہندی مثل ہے کہ مانو تو دیو، نہیں تو پتھر۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی اہل ہو، وہ خود سے اپنی قوم کا قائد نہیں بن جاتا۔ بلکہ وہ قوم کے قبول کرنے سے قائد بنتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مسٹر محمد علی جناح دونوں ہم عصر تھے۔ تقریباً بلا اختلاف یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے اندر قیادت کی اعلیٰ صلاحیت موجود تھی۔ امکانی طور پر مسٹر محمد علی جناح سے زیادہ بڑے قائد تھے۔ مگر اس زمانے کے مسلمانوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کو بحیثیت قائد کے قبول نہیں کیا۔ اس کے مقابلہ میں مسٹر محمد علی جناح کو مسلمانوں کے درمیان غیر معمولی مقبولیت ملی۔ چنانچہ اس زمانے کے مسلمانوں کے درمیان مسٹر محمد علی جناح قائد اعظم بن گئے اور مولانا ابوالکلام آزاد صرف شوبوائے بن کر رہ گئے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کا یہی مزاج آج بھی باقی ہے۔ وہ اہل افراد کو اپنار ہنما بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل افراد پیدا ہو کر مر جاتے ہیں اور وہ قیادت کے میدان میں اپنے فرائض ادا نہیں کر پاتے۔ سوال آپ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اسلام دور جدید کا خالق ہے۔ یہ کتاب انگریزی میں بھی اس نام سے چھپ چکی ہے ۔ Islam the creator of the modern age لیکن میں نے مریم جمیلہ صاحبہ کا ایک تبصرہ پڑھا جس میں وہ لکھتی ہیں کہ اسلام دور جدید کا خالق نہیں ہے بلکہ اسلام دور جدید کا انتخاب ہے : Islam is not the creator of modern age, but the option of modern age یہ بات انھوں نے اپنی کتاب Islam and the west میں لکھی ہے۔ آپ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page