دیباچہ
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب میں کیا کہتے ہیں؟ ۔ (ابرار احمد رفعت ، سورت) جواب یہ بات درست ہے کہ اسلام دور جدید کا انتخاب (choice) ہے۔ جدید ذہن سائنٹفک مذہب چاہتا ہے، اور ایسا مذہب صرف اسلام ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی بلا شبہ درست ہے کہ اسلام جدید سائنسی دور کا خالق ہے۔ مریم جمیلہ صاحبہ کو اس معاملہ میں غلط نہمی شاید اس لئے ہوئی کہ انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ میں ڈائریکٹ معنوں میں یہ بات کہتا ہوں۔ یعنی ڈائرکٹ طور پر اسلام دور جدید کا خالق ہے۔ مثلاً یہ کہ کار اور ہوائی جہاز کی ٹکنالوجی قرآن نے دی ہے۔ مگر یہ میرا کہنا نہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ اسلام دور جدید کا خالق ہے تو میں اس کو بالواسطہ مفہوم (indirect sense) میں کہتا ہوں۔ اسلام کا مقصد اصلاً شرک کو ختم کرنا اور توحید کو قائم کرنا تھا۔ مگر مشرکانہ ذہن کا خاتمہ جدید سائنس کے آغاز کا سبب بن گیا۔ جیسا کہ میں نے کتاب (اسلام دور جدید کا خالق) میں دکھایا ہے کہ قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں مشرکانہ عقائد کا غلبہ تھا۔ اس مشرکانہ عقیدہ نے نیچرورشپ پیدا کی اور نیچرورشپ نیچر کی تحقیق میں رکاوٹ بن گئی۔ اسلامی انقلاب کے ذریعہ اس ذہنی رکاوٹ (mental block) کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ میں نیچر کی آزادانہ تحقیق کا عمل شروع ہوا جو بالا آخر جدید سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ سوال مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ جس کی کئی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ چودہ سوسال پہلے قرآن نے جن چیزوں کے بارے میں مجمل اشارے کئے تھے وہ تمام اشارات حالیہ سائنسی انکشافات کے نتیجہ میں صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ گویا کہ ثابت شدہ سائنس اور قرآن کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ لیکن دوسری طرف دیگر مذاہب سے متعلق قومیں (یہود ونصاریٰ) بھی اپنی اپنی مقدس کتابوں کے بارے میں یہی دعویٰ کرتی ہیں اور یہ قومیں بھی اپنی کتابوں کے حق میں سائنسی تصدیقات موجود ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا قرآن کے دعوے میں ایسی کوئی وجہ امتیاز ہے جو اس کو دوسرے دعویٰ سے الگ کرتی ہو؟۔ (ابرار احمد رفعت، سورت)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader