Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب قدیم آسمانی کتابوں میں اگرچہ تحریف ہوئی ہے اور ان میں انسانی کلام شامل ہوگیا ہے۔ تاہم ان میں اب بھی ایسے کچھ اجزا موجود ہیں جو خدائی الہام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان اجزا میں ایسی باتیں ہیں جو بعد کو دریافت ہونے والی سائنسی حقیقتوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان میں انسانی کلام کا جو حصہ ملا ہوا ہے اس کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس دوسرے جز میں واضح طور پر ایسی مثالیں موجود ہیں جن کی تصدیق سائنسی دریافتوں سے نہیں ہوتی۔ اس طرح دوسری مقدس کتابوں میں دونوں قسم کے اجزا پائے جاتے ہیں، مطابق بھی اور غیر مطابق بھی۔ مگر قرآن کی صفت یہ ہے کہ وہ پورا کا پورا محفوظ الہام کی حیثیت رکھتا ہے، وہ انسانی ملاوٹ سے مکمل طور پر پاک ہے اس لئے قرآن پورا کا پورا سائنسی حقیقتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جو چیز دوسری مقدس کتابوں میں صرف جزوی طور پر پائی جاتی ہے وہ قرآن میں کلی طور پر موجود ہے یہی اس معاملہ میں قرآن کا امتیازی وصف ہے۔ اس معاملہ کی تفصیلی مثالیں راقم الحروف کی کتابوں (مثلاً عظمت قرآن وغیرہ) میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ سوال آج کل ہمارے یہاں یہ ذکر زوروں پر ہے کہ آپ نے وندے ماترم کہنا مسلمانوں کے لئے جائز کر دیا ہے۔ اگر یہ جائز ہو تو اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے بہت قریب لا دے گا۔ دشمنی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ لیکن اگر مسلمان زمین کی وندنا کر سکتا ہے تو پھر ہمالہ، گنگا ، سرسوتی ، گائے وغیرہ کی وندنا کیوں نہیں کر سکتا اور اگر کر سکتا ہے تو پھر شرک کیا ہے؟۔ (شاکر وارث ۔ مراد آباد) جواب وندے ماترم کی شرعی نوعیت کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو دوسرے علماء کی رائے ہے۔ اس معاملہ میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی اس کی ذمہ داری اردو کی زرد صحافت پر ہے۔ اس موضوع پر میرے آرٹیکل کا عنوان یہ تھا ۔۔۔۔۔وندے ماترم: اشویانات اشو۔ اردو اخبار والوں نے اس کو بدل کر وندے ماترم، جائز یا ناجائز بنا دیا۔ اس بدلے ہوئے عنوان کی بنا پر لوگوں نے یہ سمجھا کہ میں وندے ماترم کو جائز بتا رہا ہوں۔ حالانکہ اصولی اعتبار سے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page