دیباچہ
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جائز ہونے کا کوئی سوال نہیں اور نہ میں نے کبھی ایسا کہا۔ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ اس معاملہ کو عوامی احتجاج کا اشو نہ بنایا جائے ۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات میں عوامی احتجاج صرف الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ علما ء کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں وندے ماترم کو لازمی ٹھہرانا دستور کے خلاف ہے۔ مجھے اس سے اتفاق ہے ۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ دستوری نزاع کا فیصلہ جلسوں اور تقریروں کے اسٹیج پر نہیں ہوتا ۔ اس کے فیصلہ کا مقام عدالت ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں چاہئے کہ ہم ایک طرف متبادل اسکول قائم کریں اور دوسری طرف اپنی جد و جہد کے لئے عوامی مظاہرہ کے بجائے عدالتی طریقہ اختیار کریں ۔ گویا کہ میرا اختلاف نفس مسئلہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ طریقہ کار کے بارے میں ہے ۔ ہندوستان جیسے ملک میں کسی اقلیت کے لئے مظاہراتی طریقہ ہمیشہ ناکام ہو گا ۔ اور عدالتی طریقہ ہمیشہ کامیاب ۔ مظاہراتی طریقہ میں فیصلہ کن چیز تعداد ہوتی ہے ۔ یہاں اقلیتی گروہ اپنی عددی کمی کی بنا پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے بر عکس عدالتی طریقہ میں سارا انحصار دلیل پر ہوتا ہے اس لئے جو گروہ حق ہو اس کی کامیابی یقینی بن جاتی ہے گویا کہ ایک صورت میں فیصلہ کی بنیاد ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دوسری صورت میں فیصلہ کی بنیاد فریق ثانی کے ہاتھ میں ہیں ۔ وندے ماترم ابھی تو لازم نہیں ہے۔ لیکن اگر اس کو لازم کیا جائے تو اس کو چیلنج کرنے کی صحیح جگہ عدالت ہے نہ کہ عوامی اسٹیج۔ سوال قرآن میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔ نماز پڑھنے کا نہیں تو موجودہ پڑھی جانے والی نماز کن احکامات کی روشنی میں پڑھی جارہی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز قائم کرنے کا مطلب نظم و نسق درست کرنا ہے اور یہ کہ سجدہ کا مطلب تعمیل حکم ہے یہ کہاں تک درست ہے۔ (محمد بدر الدین شیم، ناگپور) جواب صلوٰۃ کا مطلب نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ نماز ادا کرنا ہے۔ اسی طرح اقام کا مطلب نافذ کرنا نہیں ہے بلکہ حسن و خوبی کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اس طرح اقام کا مطلب بھی وہی ہے جو صلوٰۃ کا مطلب ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader