Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

البتہ اقام کے لفظ میں اہتمام کے ساتھ ادائیگی کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر علمی اعتراض ہے۔ قرآن میں نماز کا حکم صرف اقام کے لفظ کے ساتھ نہیں آیا ہے بلکہ مختلف الفاظ کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً صلتی ، حافظ، وغیرہ۔ ان الفاظ کے لغوی معنی میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے۔ مگر سب کا مشترک مفہوم یہ ہے کہ نماز کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کیا جائے۔ قرآن میں اقام کے سوا جن الفاظ کے ساتھ نماز کا حکم آیا ہے ان میں سے کچھ کے حوالے یہ ہیں کہ: القیامۃ ۳۱ ، العلق ۱۰، الکوثر ۲، المعارج ۲۲، المدثر ۴۳، النساء ۱۰۲، البقرہ ۴۵، البقرہ ۱۵۳، البقرہ ۲۳۸ و غیرہ ۔ احادیث میں بار بار نماز کا ذکر لفظ اقامت کے بغیر آیا ہے۔ تا ہم صل کا مطلب بھی عین وہی ہے جو اقام الصلاۃ کا ہے ۔ اقامت کا لفظ دراصل برائے وضاحت ہے۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے وضاحتی الفاظ بھی آئے ہیں مثلاً محافظت یا خشوع و غیرہ ۔ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو پوری پابندی کے ساتھ اور ظاہر و باطن کے اعتبار سے اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کیا جائے ۔ نماز کو اس کے ظاہر اور اس کے باطن دونوں کے اعتبار سے انجام دیا جائے ۔ یہی مطلب ہے نماز کی اقامت کا ۔ نماز ثابت شدہ طور پر ایک عبادتی فعل ہے ۔ اسلام میں نظم ونسق اور احکام کی تعمیل بھی ہے ۔ مگر ان چیزوں کا حکم دوسری آیات سے نکلتا ہے نہ کہ نماز کی آیات سے ۔ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ جن آیتوں میں اقامت کا لفظ آیا ہے وہاں بھی قائم کرنے کا حکم ہے نہ کہ کچھ اور قائم کرنے کا۔ اس لئے ان آیتوں میں بھی نماز ہی کی اقامت ، بالفاظ دیگر نماز کی کامل ادائیگی مراد ہوگی نہ کہ نماز کے سوا اور خود ساختہ چیز کی اقامت یا ادائیگی۔ بے خبری کی سب سے عجیب قسم یہ ہے کہ آدمی جس حقیقت کو اپنی ذات کے معاملہ میں جانے اس کو وہ دوسروں کے معاملہ میں بھول جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page