Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ اتمام حجت تک پہنچا دیا جائے، اس کے باوجود وہ گروہ انکار کی روش پر قائم رہے۔ مزید یہ کہ اس انکار کا تعلق مکمل طور پر انسان کی نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ اس لئے کسی فر دیا گروہ کو کافر (منکر) قرار دینا صرف اللہ عالم الغیب کا حق ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے کوئی ایک نسل کافر (منکر) ہوسکتی ہے جس پر اتمام حجت کیا گیا ہو۔ اس کے بعد کی نسلوں پر پھر بھی اس لفظ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ظہور اسلام کے بعد ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے کبھی کسی قوم کو کافر کا لقب نہیں دیا، وہ انہیں ان کے معروف نسبتی نام سے پکارتے رہے۔ یہ زبان پچھلے دو سال کے دوران استعمال ہوئی ہے جب کہ مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں کے مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ در حقیقت موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی طرف سے احساس نفرت کا اظہار تھا، نہ کہ احساس دینی کا اظہار ۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ظہور اسلام کے بعد ایک ہزار سال تک مسلمان اپنے دور دعوت میں تھے اور اب وہ اپنے دور نفرت میں ہیں۔ کافر اور دشمن کے الفاظ دراصل مذہب نفرت کی پیداوار ہیں، نہ کہ مذہب اسلام کی پیداوار۔ خونریزی اسلام کی تعلیم ہی نہیں۔ اسلام کی تمام تعلیمات امن اور انسانی خیر خواہی پر مبنی ہیں۔ اس مسئلہ پر اسلام کے نقطہ نظر کو میں نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جو ماہنامہ الرساله اکتوبر ۲۰۰۲ میں ”امن کلچر‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ ۲۔ جہاد کا لفظی مفہوم کوشش یا جدوجہد ہے۔ اس سے مراد اسلام کے دعوتی مقصد کے لئے پُر امن جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کا کوئی بھی براہ راست تعلق جنگ سے نہیں۔ قرآن میں جنگ کے لئے قتال کا لفظ آیا ہے۔ مگر قرآن کے مطابق ، قتال کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غیر مسلموں پر مسلمانوں کا غلبہ قائم کرنے کے لئے جنگ کی جائے۔ اس قسم کی جنگ قرآن کے مطابق ، نہ جہاد ہے اور نہ قتال ۔ بلکہ وہ ایک قومی سرکشی ہے جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کی جنگ فساد ہے، نہ کہ جہاد۔ جو نظریہ سرے سے درست ہی نہ ہو اس کی تشہیر کیوں کر معقول ہو سکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page