سوال و جواب
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
۳- یہ سراسر الزام ہے کہ اسلام میں نوع انسانی کو مسلم و کافر میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قرآن میں بار بار ایہا الانسان اور ایہا الناس کا لفظ استعمال ہوا ہے جن کی مجموعی تعداد قرآن میں ۳۱۵ ہے۔ اس سے اور دوسری قرآنی آیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کی اصل حیثیت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ وہ انسان ہیں۔ تمام لوگ بنی آدم ہونے کی حیثیت سے یکساں طور پر بنی آدم کا حصہ ہیں۔ ان میں سے جن لوگوں کو خدائی حق کی معرفت ہو جائے اور وہ اس کو قبول کر لیں تو وہ اللہ کے نزدیک مومن قرار پائیں گے۔ ہندو سماج کے ذہن میں اس سلسلہ میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی ہے اس کا سبب اسلام کی حقیقی تعلیمات نہیں ہیں بلکہ کچھ مسلمانوں کی غلط نمائندگی ہے۔ چنانچہ جو ہندو مسلمانوں کی روش سے قطع نظر کر کے براہ راست طور پر اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں وہ کبھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوتے۔ اس معاملہ کی ایک مثال ڈاکٹر منشی کانت چٹو پادھیای ہیں۔ ان کا پورا واقعہ خود انہی کے الفاظ میں، راقم الحروف کی کتاب اسلام ری ڈسکورڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے یا ہو رہے ہیں ان کا کوئی بھی تعلق اسلام کی تعلیمات سے نہیں ہے۔ وہ براہ راست طور پر دو قومی سیاست اور تقسیم ملک کی غیر فطری تحریک کا نتیجہ ہیں۔ اس کا سادہ ثبوت یہ ہے کہ اس غیر فطری اور غیر دانش مندانہ تحریک سے پہلے تقریبا ہزار سال تک ہندو اور مسلمان بر صغیر ہند میں مل جل کر رہتے تھے۔ ان کے درمیان کبھی وہ چیز مشاہدہ میں نہیں آئی جس کو آج کل فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ یہ فرقہ وارانہ فسادی یقینی طور پر تقسیم کے غیر فطری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ۔ سوال نامے میں قرآن کی ۹ آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اعتراض کرنے والے انہی آیتوں کو لے کر اعتراض کرتے ہیں۔ مگر یہ تمام اعتراضات صرف غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ ان محولہ آیتوں کا جواب مختصر طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔ (الف) قرآن میں نجس کا لفظ صرف رسول کے ان معاصر لوگوں کے بارے میں آیا ہے جنہوں نے ناجائز طور پر بیت اللہ میں ۳۶۰ بت رکھ دیے تھے۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ آئندہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader