Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ بیت اللہ کے قریب نہ آئیں (التوبہ ۲۸) یہ حکم خصوصی ہے، نہ کہ عمومی۔ (ب) قرآن کی جس آیت میں مشرکین کے قتل کا حکم ہے، اس سے مراد رسول اللہ کے وہ معاصر لوگ ہیں جو مکہ میں تھے اور جنہوں نے اپنے مسلسل عمل سے یہ ثابت کیا تھا کہ وہ ظالم اور جارج لوگ ہیں۔ اس حکم کا دوسری اقوام یا دوسری نسلوں سے کوئی تعلق نہیں۔ (ج) قرآن کی جس آیت میں حکم آیا ہے کہ اہل ایمان اہل کفر کو اپنا اولیاء نہ بنائیں اس سے مراد زمانہ رسالت کے مخصوص اہل کفر ہیں جنہوں نے یک طرفہ طور پر دشمنی اور جارحیت کی روش اختیار کر رکھی تھی۔ یہ حکم بھی یقینی طور پر وقتی اور خصوصی ہے، نہ کہ ابدی اور عمومی۔ (د) اسی طرح قرآن کی جس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عدو سے مودت کا طریقہ اختیار نہ کریں، اس کا تعلق صرف عرب کے ایک جارج گروہ سے ہے۔ یہ بلاشبہ ایک استثنائی حکم ہے۔ جہاں تک عداوت کے مقابلہ میں اسلام کے عمومی حکم کا تعلق ہے، وہ قرآن کی سورہ نمبر ۴۱، آیت نمبر ۳۴ میں بیان ہوا ہے۔ اس کے مطابق، اہل اسلام کو اپنے اعداء کے مقابلہ میں ردعمل کا طریقہ نہیں اختیار کرنا چاہئے بلکہ انہیں یک طرفہ حُسن سلوک کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ (ہ) قرآن کی جس آیت میں کفار اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد ہرگز جنگ نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی منافقین سے جنگ نہیں کی۔ یہ دراصل تشدیدی لحظہ کی ایک مثال ہے جس کو مصلح بعض اوقات اصلاح کے لئے اختیار کرتا ہے۔ (و) قرآن کی جس آیت میں جاہلوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے مراد نا واقف اور بے خبر ہونا ہے۔ یعنی بے خبر لوگوں کو ایسا کرنا نہیں چاہئے کہ وہ باخبر شخص سے بے دلیل تکرار کرنے لگیں۔ (ز) مذکورہ آیت میں کفار سے مراد جارج کفار ہیں۔ یہ آیت بھی قرآن کے ایک خصوصی اور زمانی حکم کو بتاتی ہے، نہ کہ عمومی اور ابدی حکم کو۔ اس میں مسئلہ جارحیت کا حکم بتایا گیا ہے نہ کہ مذہبی اختلاف کا حکم۔ (ح) اس نمبر کے ذیل میں قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا تعلق ان لوگوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page