Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہے جنہوں نے یک طرفہ جارحیت کر کے اہل اسلام پر حملہ کر دیا ہو اور اہل اسلام کو دفاع کے طور پر ان سے لڑنا پڑے۔ (ط) اس آیت کا تعلق بھی حالت جارحیت سے ہے۔ اس آیت میں لا یدینون دین الحق کا لفظ صرف قید اتفاقی کے طور پر آیا ہے۔ اس حکم کا انطباق صرف دور اول کے کچھ لوگوں پر کیا گیا۔ اس کے بعد اس حکم کی توسیع نہیں کی گئی، جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے۔ آخر میں عرض ہے کہ قرآن کی مذکورہ آیتوں کا جو مفہوم راقم الحروف نے یہاں بیان کیا ہے وہ ان آیتوں کا کوئی نیا مفہوم نہیں۔ قرون مشہود لہا بالخیر میں عام طور پر ان آیتوں کا یہی مفہوم سمجھا گیا ہے اور اسی کے مطابق عمل کیا جاتا رہا ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں اسلام کے اس پہلو کو تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب : دین انسانیت ۔ تا ہم موجودہ زمانہ میں کچھ مسلمانوں کو مذکورہ تشریحات اجنبی معلوم ہوسکتی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک نئی کمزوری پیدا ہوئی ہے جو اس سے پہلے کبھی مسلمانوں میں نہ تھی اور وہ ہے غیر مسلموں کے خلاف نفرت ۔ آج کل کے مسلمان عام طور پر غیر مسلموں کے بارے میں نفرت کی نفسیات میں جیتے ہیں اور جو لوگ نفرت کی نفسیات میں جیتے ہوں وہ منفی باتوں کو تو خوب سمجھیں گے مگر مثبت باتیں ان کے لئے اجنبی ہو جائیں گی ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ حالت اس حدیث رسول کے عین مطابق ہے جس میں پیشگی طور پر یہ خبر دی گئی تھی کہ : بدأ الا سلام غریبا و سیعود كما بدأ ( مسلم کتاب الایمان ، الترمذی کتاب الایمان ، ابن ماجہ کتاب الفتن ، الدارمی کتاب الرقاق ، مسند احمد ) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ لوگوں کے لئے اجنبی تھا اور دوبارہ وہ لوگوں کے لئے اجنبی بن جائے گا جیسا کہ وہ پہلے اجنبی تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page