دیباچہ
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال ہمارے علمی حلقہ کے ایک دوست کا اصرار ہے کہ آپ سے سوال معلوم کیا جائے۔ وہ یہ کہ ان کے ایک دوست جو کبھی آپ کے بہت قریب رہا کرتے تھے۔ کسی وقت ان کا آپ کے بیت الخلا میں جانے کا اتفاق ہوا اور انھوں نے آپ کے بیت الخلا میں بخاری شریف کو رکھا ہوا دیکھا۔ ایسے مقام پر بخاری شریف کا پایا جانا ان کے لئے نفرت کا سبب بن گیا اور وہ آپ سے دوری اختیار کر گئے اور ہمارے علمی حلقہ میں بھی اس تعلق سے وضاحت چاہتے ہیں کہ کیا یہ ایک حقیقت ہے یا پھر آپ کی دشمنی میں ایک غلط بات اڑا دی گئی ہے؟۔ (محسن احمد، حیدر آباد) جواب یہ صحیح ہے کہ میرے مطالعہ کے کمرہ سے ملحق باتھ روم میں ایک الماری پر کچھ جلدیں رکھی ہوئی ہیں۔ مگر یہ جلدیں صحیح البخاری کی نہیں ہیں بلکہ وہ اخبار کی جلدیں ہیں اور جدید طرز کے ایک صاف ستھرے باتھ روم کی ایک الماری میں کسی اخبار کی جلدیں رکھنے میں یقینی طور پر کوئی حرج نہیں۔ صحیح البخاری میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اياكم الظن فان الظن اكذب الحديث ، فتح الباری بشرح النووی (۱۰ / ۴۹۶) یعنی تم لوگ گمان سے بچو کیوں کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ آپ کے دوست نے خود صحیح البخاری کی اس روایت پر عمل نہیں کیا۔ انھیں چاہئے تھا کہ باتھ روم میں رکھی ہوئی جلد کو کھول کر دیکھتے یا مجھ سے اس کی بابت پوچھتے۔ ایسا نہ کر کے انھوں نے صرف گمان کی بنیاد پر ایک بے بنیاد رائے قائم کی اور اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ صرف ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ حدیث کے الفاظ میں ایک قسم کا کذب ہے۔ سوال الرسالہ اکتوبر ۹۸ صفحہ ۴۳ پر قولی و فعلی دعوت کے جواب میں آپ نے فعلی دعوت کی نفی کی ہے۔ جب کہ قرآن سے فعلی دعوت ثابت ہے۔ مثال کے طور پر سورہ القلم کی یہ آیت انک لعلی خلق عظیم۔ (محسن احمد، حیدر آباد)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader