سوال و جواب
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
۸۔ "فرائیڈے اسپیشل"، عصرِ حاضر کے مفکرِ اسلام مولانا مودودیؒ پر خصوصی نمبر شائع کرنے جا رہا ہے جس میں مختلف پہلوؤں سے ان کی شخصیت پر مضامین شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کے تحت مولا نامرحوم کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی سے متعلق مذکورہ سوال نامہ آپ کی خدمت میں ارسال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس کا مفصل جواب عنایت فرمائیں گے۔ جوابات ۱۔ جماعت اسلامی کے اپنے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ کہی جاسکتی ہے کہ اس نے ۱۹۴۰ء کے بعد ایک معمولی تنظیم کی حیثیت سے اپنا آغاز کیا اور اب جماعت اسلامی مادی اعتبار سے ایک مؤسسہ (stablishment) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ مؤسسہ کے بیشتر ظاہری لوازم اس نے اپنے گرد جمع کر لیے ہیں۔ لیکن اگر اسلام اور ملتِ اسلام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو شاید جماعت اسلامی کا کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں۔ اسلام کے اعتبار سے جماعتِ اسلامی کی سب سے بڑی فکری ناکامی یہ ہے کہ اس نے اسلام کی غلط تعبیر پیش کی۔ اس نے اسلام کو، وقت کے مروّجہ مزاج کے مطابق، سیاست کی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ اس کا ثبوت جماعتِ اسلامی کا پورا لٹریچر ہے۔ اس لٹریچر نے جن لوگوں کو متاثر کیا ان کا حال یہ ہوا کہ وہ اسلام کو ایک قسم کا سیاسی نظریہ سمجھنے لگے۔ نتیجہ اسلام کا اصل پہلو، خشوع اور تقویٰ اور انابت اور اخبات اور رہبانیت جیسی چیزیں اُن کے ذہن میں اپنا نتیجتاً مقام نہ پاسکیں ۔ یہاں تک کہ جماعتِ اسلامی عملاً ایک قسم کی سیاسی پارٹی بن کر رہ گئی۔ ۲۔ یہ خیال بجائے خود درست ہے۔ مگر یہ جماعتِ اسلامی کی مجبوری ہے، نہ کہ اس کے نقطہ نظر سے کوئی انحراف۔ اصل یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی نے اقامتِ دین کا ایک خود ساختہ تصور پیش کیا۔ اس خود ساختہ تصور کے مطابق، اقامتِ دین کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو ایک مکمل قانونی اور سیاسی نظام کے طور پر قائم کیا جائے۔ میرے نزدیک یہ نظریہ غیر اسلامی بھی تھا اور غیر حقیقی بھی۔ چنانچہ جب واقعی حالات سے سابقہ پیش آیا تو معلوم ہوا کہ یہ رومانی تخیل حقائق کی دنیا میں قابلِ عمل ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader