Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

حالات نے رومانی تخیل کو توڑ دیا تو اس کے بعد ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اس سے الگ ہو جائیں ۔ اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ جو علماء جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد اس سے الگ ہوئے ، ان سب کے علیحدگی کا ایک ہی مشترک سبب تھا اور وہ یہ کہ انہیں جماعت اسلامی کی عملی سیاست سے اختلاف تھا ، نہ کہ فکری معنوں میں اس کے نظریہ سے ۔ اصولی طور پر اس قسم کی علیحدگی کے لئے کوئی مبرر (justification) موجود نہیں۔ اس معاملہ میں صرف راقم الحروف کا استثناء ہے ۔ جماعت اسلامی سے میری علیحدگی عملی اختلاف کی بنیاد پر نہ تھی بلکہ تمام تر فکری اور نظریاتی اختلاف کی بنا پر تھی جس کی تفصیل میری کتاب تعبیر کی غلطی‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ اس لئے جماعت اسلامی سے علیحدگی کے لئے میرے پاس تو مبرر ہے مگر دوسرے علماء کے پاس اس کا مبرر نہیں۔ ۴- جماعت اسلامی کے ماضی اور حال میں یہ فرق ضرور پایا جاتا ہے ۔ مگر یہ فرق فطری ہے۔ جماعت اسلامی کے قدیم کارکن وہ لوگ تھے جو جماعت کی پہلی نسل کی حیثیت رکھتے تھے اور اس کے موجودہ کارکن اس کی دوسری نسل کی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی بھی جماعت یا تحریک کی ابتدائی نسل اور بعد کی نسل میں اس قسم کا فرق پیدا ہونا تقریباً لازمی ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے قدیم کارکن بھی اس زمانہ میں جو کام کرتے تھے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اشاعت دین کا کام نہ تھا اشاعت سیاست کا کام تھا۔ یہ لوگ دین کے نام پر جماعت اسلامی کے بانی کا وہ لٹریچر پھیلاتے تھے جو حقیقی معنوں میں اسلام کی مطلوب تشریح نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کی خود ساختہ سیاسی تشریح ہے ۔ میرے نزدیک ایسے کسی کام کو اشاعت دین کا عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ ۵- کارکنوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں یہ شکایت بالکل درست ہے۔ مگر اس کا تعلق عروج وزوال کے فطری قانون سے ہے ، نہ کہ خود جماعت اسلامی کے کسی داخلی سبب سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page