Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ بتاتی ہے کہ ہر جماعت یا تحریک کی بعد کی نسلوں میں وہی گراوٹ آجاتی ہے جس کا مشاہدہ جماعتِ اسلامی کے موجودہ افراد میں کیا جا رہا ہے۔ ۶۔ الیکشن کے معاملہ میں جماعتِ اسلامی کے لوگوں میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ جماعت کے بانی نے ”طاغوتی نظام“ کے نام سے جو نظریہ پیش کیا ، اس کے مطابق ، سیکولر جمہوری ریاست کے اندر الیکشن میں حصہ لینا حرام قرار پاتا ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، تقسیم ملک کے بعد جماعتِ اسلامی کے بانی نے ناپاک دستور کو ماننے سے انکار کر کے اعلان کر دیا کہ اکتیس اکتوبر کی رات کو جماعت اسلامی کے بانی نے ایک دستوری ملحدانہ نظریہ اعلان کر دیا کہ پاکستان کی ریاست نے اسے پڑھ لیا ہے اس لئے پاکستان میں الیکشن میں حصہ لینا جائز ہو گیا ہے۔ مگر ہندوستان میں یہاں کی ریاست کے بارے میں اس قسم کی کلمہ گوئی کا بہانہ موجود نہ تھا۔ ایسی حالت میں جماعت اسلامی کے مبینہ نظریہ کے مطابق، ہندوستان میں الیکشن میں حصہ لینا بدستور حرام تھا۔ مگر دھیرے دھیرے جماعت اسلامی والوں کو محسوس ہوا کہ اس قسم کا نظریہ سراسر ایک غیر عملی نظریہ ہے۔ اب جماعت اسلامی والوں کے لئے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ ان کا طاغوتی نظام کا فلسفہ ایک انتہا پسندانہ نادانی تھی۔ وہ ایک سیاسی غلطی تھا جس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ اگر وہ اس طرح اپنی غلطی کا اعلان کر دیتے تو وہ کھلے طور پر الیکشن میں حصہ لے سکتے تھے۔ مگر انہوں نے ایسا اعلان نہیں کیا۔ اس کے نتیجہ میں جماعت اسلامی دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک وہ لوگ ہیں جو اعتراف خطا کے بغیر الیکشن میں حصہ لینا درست سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو بانی جماعت کی تقلید میں بدستور الیکشن کو حرام سمجھ رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے لئے اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ اس کا سابقہ طاغوتی نظریہ درست نہ تھا۔ اس اعلان کے بغیر یہی ہوگا کہ کچھ لوگ مصلحت پسندانہ طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے اور کچھ لوگ تقلیدی طور پر اس کو حرام سمجھتے رہیں گے۔ ۷۔ جماعت اسلامی میں ٹھہراؤ اور جمود کی بات بلاشبہ درست ہے۔ مگر اس کا سبب لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے بلکہ جماعت اسلامی میں اعتراف کی کمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا فکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page