Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک رومانی دور میں بنا۔ اس کے فطری نتیجہ کے طور پر جماعت اسلامی نے ایک ایسا فکری نظام بنایا جو عملی سے زیادہ تخیلاتی تھا۔ اس قسم کی رومانیت (romanticism) کا نتیجہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے جو جماعت اسلامی کے اندر پیش آیا۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ جماعت اسلامی میں وہ تحریک چلے جس کو عام طور پر تحریک نظرثانی (revisionism) کہا جاتا ہے۔ یعنی جماعت اسلامی کے لوگ کھلے طور پر یہ مانیں کہ ان کی جماعت کے بانی نے فکری ناپختگی کی بنا پر غلط نظریات قائم کیے اور اسلام کی ایسی تشریح کی جس کا تعلق نہ دین سے تھا اور نہ عقل سے۔ اس حقیقت واقعہ کو مان کر جماعت اسلامی کے فکر پر نظرثانی کی جائے اور اس کی تصحیح کر کے اس کو شریعت اور حقائق کے مطابق بنایا جائے۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کی مذکورہ کمزوری اپنے آپ دور ہو جائے گی۔ جماعت اسلامی جس نظریہ پر اٹھی وہ یہ تھا کہ انسانی اقتدار کا نام طاغوت ہے۔ اس نظریہ کے مطابق موجودہ دنیا میں ہر جگہ طاغوتی نظام قائم ہے۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس طاغوتی نظام کو توڑ کر خدائی اقتدار کا نظام قائم کرے۔ اس کوشش کے بغیر جو موت ہوگی وہ جاہلیت کی موت ہوگی۔ یہ نظریہ نہ صرف خود ساختہ تھا بلکہ وہ ناقابل عمل بھی تھا۔ اس لئے جماعت اسلامی کے لوگ دھیرے دھیرے اس نظریہ سے ہٹنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ دوسری مسلم جماعتوں کی طرح، صرف ایک ملی جماعت بن کر رہ گئے۔ اس گراوٹ کے بعد ان کے اندر وہ تمام خرابیاں آگئیں جو کسی جماعت کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ اس نے اعلان کے بغیر اپنا موقف بدل لیا ہو۔ اس کے بعد جماعت اسلامی اُسی طرح ایک مسلم قومی جماعت بن گئی جس طرح آر۔ایس۔ایس ایک ہندو قومی جماعت ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف آر۔ایس۔ایس کے آرگن، پانچ جنیہ اور آرگنائزر کے ایک سال کے شمارے اکٹھا کرے اور دوسری طرف وہ جماعت اسلامی کے آرگن دعوت اور ریڈینس کے ایک سال کے شمارے اکٹھا کرے اور پھر دونوں کا تقابلی مطالعہ کرے تو وہ پائے گا کہ الفاظ کے فرق کے ساتھ دونوں میں حیرت انگیز مشابہت ہے۔ آر۔ایس۔ایس کے پرچے اگست کی ہندو سازشوں اور اینٹی ہندو سرگرمیوں کے انکشاف کا دفتر ہیں تو جماعت اسلامی کے پرچے اینٹی مسلم سازشوں اور اینٹی مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page