Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

سرگرمیوں کے انکشاف کا دفتر۔ یہ مشاہبت اتنی زیادہ نمایاں ہے کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پانچ جنبہ اور آرگنائزر ہندوؤں کے دعوت اور ریڈینس ہیں اور دعوت اور ریڈینس مسلمانوں کے پانچ جنبہ اور آرگنائزر۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پانچ جنبہ اور آرگنائزر پڑھنے والے ہندو جس طرح مسلمانوں کے بارہ میں منفی سوچ کا شکار ہوجاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح دعوت اور ریڈینس پڑھنے والے بھی اینٹی ہندو سوچ کا شکار ہیں۔ اس منفی ذہن نے جماعت اسلامی کے افراد کو بیک وقت دو برے تحفے دیے ہیں۔ اس منفی ذہن کی بناء پر ایک طرف وہ لوگ جو دعوت اور ریڈینس کے دائرۂ اثر سے باہر ہیں، ان کی طرف سے مخالفتیں اور کاروائیاں کر رہے بنا پر ایک طرف وہ لوگ دعوت کے قابض رہے ہیں۔ دعوت مدعو کے دل میں گہری سرگوشی کے تحت پیدا ہوتی ہے۔ اب جو لوگ اپنے مدعو کے خلاف منفی سوچ میں مبتلا ہوں وہ مدعو کے حق میں ایک طرفہ خیر خواہ نہیں بن سکتے۔ اس طرح کی منفی سوچ آدمی کو دعوت کے عمل کے لئے بالکل نااہل بنا دیتی ہے۔ آج کل جماعت اسلامی کے لوگ دعوت کے نام سے جو کچھ کر رہے ہیں، وہ میرے نزدیک ایک قسم کا پروفیشن ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی سنجیدہ مشن۔ وہ صرف ایک ظاہری نوعیت کا جماعتی پروگرام ہے، نہ کہ لعلک باخع نفسك (الشعراء ۳) کی نفسیات کے تحت ظاہر ہونے والا کوئی ربانی عمل۔ اس منفی سوچ کا دوسرا اس سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کا سینہ مثبت نفسیات سے خالی ہو جائے گا اور جس آدمی کا سینہ مثبت نفسیات سے خالی ہو وہ اعلیٰ ربانی احساسات کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ اس کی زندگی میں بظاہر نماز روزہ دکھائی دے گا۔ مگر اس کا یہ نماز روزہ اس کی زندگی کا صرف ایک رسمی حصہ ہوگا۔ وہ ربانی نفسیات کا اظہار نہیں ہو سکتا۔ ۸۔ مولانا ابو الٰعلیٰ مودودی کی قائم کردہ جماعت اسلامی کے بارے میں میں نے اوپر اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔ جہاں تک مولانا مودودی کی شخصیت کا تعلق ہے، اس سلسلہ میں عرض ہے کہ میرے مطالعہ کے مطابق، وہ کوئی مفکر (thinker) نہ تھے۔ آج کل ایک عجیب رواج یہ ہو گیا ہے کہ لوگ اپنی محبوب شخصیتوں کو خوش عقیدگی کے تحت مفکر لکھ دیا کرتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس لفظ کا یہ استعمال درست نہیں۔ آج کل جن مسلم افراد کو مفکر کا نام دیا جاتا ہے، وہ سب یا تو شاعر تھے یا خطیب تھے یا ادیب۔ ذاتی طور پر میں مولانا مودودی کو ادیب اور انشاپرداز سمجھتا ہوں، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی مفکر۔ مفکر یا تھنکر وہ ہے جو بصیرت (vision) کا حامل انسان ہو۔ جو اپنی بڑھی ہوئی تحلیلی قوت کے ذریعہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page