سوال و جواب
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
حال میں مستقبل کو دیکھے۔ جو متفرق حقائق کو ایک داخلی وحدت (inter-related whole) میں تبدیل کر سکے۔ جو ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان اس فرق (differnce) کو جانے جو صحت تفکیر کے لئے ضروری ہے۔ جو قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس کی سوچ مکمل طور پر رد عمل سے خالی ہو۔ جو منفی سوچ سے پوری طرح پاک ہو اور خالص مثبت سوچ کے تحت رائے قائم کر سکے۔ میرے نزدیک موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کوئی بھی شخصیت (بشمول مولا نا مودودی) ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے ان میں سے کوئی بھی مفکر کہے جانے کی مستحق نہیں۔ ان لوگوں کی فکر و عمل کے تحت بنی کہ مفکر وہ ہے جو ابدی حقائق کی روشنی میں سوچ سکے۔ میرے نزدیک جماعت اسلامی کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اس نے اپنے غیر فطری نظریہ کی بنا پر اپنے پیروؤں کو ایک دوطرفہ مشکل میں ڈال دیا۔ اب ان کے لئے صرف دو میں سے ایک کا چوائس موجود ہے۔ یا تو وہ جماعت کے بانی کے نظریہ کے مطابق، طاغوتی نظام سے بے فائدہ لڑائی لڑ کر اپنے آپ کو تباہ کر لیں یا اپنے اور اپنے بچوں کی انٹرسٹ کی خاطر منافق بن کر زندگی گزاریں۔ جماعت اسلامی کے مبینہ نظریہ کے مطابق، آج کی پوری دنیا میں طاغوتی نظام قائم ہے اور طاغوتی نظام سے سمجھوتہ ان کے نزدیک ہر حال میں حرام ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، طاغوتی نظام کے تحت رہنے کی ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ اس سے مقاطعہ کر کے اس سے مسلسل جنگ کی جائے، یہاں تک کہ اسی راہ میں اپنی جان دے دی جائے۔ ظاہر ہے کہ اس انتہا پسندانہ تصور سے آدمی کا اور اس کے بچوں کا دنیوی مستقبل مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اب جماعت کے تمام لوگ موجودہ طاغوتی نظام سے سمجھوتہ کر کے اس کے تحت دوسرے لوگوں کی طرح مادی تعمیر میں لگ گئے ہیں۔ میرے نزدیک موجودہ نظام کے تحت مادی حاصل کرنا غلط نہیں۔ مگر جماعت اسلامی والوں کے لئے، وہ ان کے عقیدہ کے مطابق، حرام ہے، الا یہ کہ وہ اپنے سابقہ نظریہ کے باطل ہونے کا اعلان کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader