Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

چونکہ جماعت والوں نے ایسا اعلان نہیں کیا، اس لئے ان کی موجودہ سمجھوتہ کی زندگی صرف منافقت قرار پائے گی، نہ کہ حقیقی معنوں میں بااصول زندگی۔ (۱۱ ستمبر ۲۰۰۲) سوال مسلم مصنفین کی کتابوں کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری خدائی صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔ خواہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ محروم طبقہ ہوں۔ مگر وہ برابر یہ کہتے رہتے ہیں کہ ’’ساری کائنات بس ہمارے لئے تخلیق کی گئی ہے۔‘‘ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ مولا ناشبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں وما ارسلنک الارحمة للعالمين کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’نیز حق تعالیٰ نے وعدہ فرما لیا ہے کہ پہلی امتوں کے برخلاف اس امت کے کافروں کو عام ومتأصل عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا‘‘ (صفحہ ۴۲۸)۔ یہ کیا معاملہ ہے، اس کی وضاحت کریں (محمد سلیم، دہلی) جواب ۱۔ یہ بات بے بنیاد ہے کہ مسلم قوم خدا کے نزدیک کوئی افضل قوم ہے۔ شعب مختار (chosen people) کا عقیدہ خالص یہودی عقیدہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جو فیصلہ ہوگا وہ ہر فرد کے اپنے ایمان وعمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی قوم یا نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنیاد پر۔ ۲۔ تفسیر عثمانی کا جو اقتباس آپ نے نقل کیا ہے وہ بھی درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب عذاب متأصل نہیں آئیں گے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا تعلق صرف بعد کے مسلمانوں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون الہی کا تعلق اس بات سے ہے کہ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں۔ عذاب متأصل صرف کسی ایسی قوم پر آتا ہے جس کے درمیان کوئی پیغمبر آئے اور وہ ان پر اتمام حجت کردے۔ اس کے باوجود قوم انکار کی روش پر قائم رہے۔ ایسی ہی کسی قوم پر عذاب متأصل آتا ہے، جیسے کہ قوم نوح، قوم ثمود اور قوم فرعون پر آیا۔ اب ختم نبوت کے بعد چوں کہ دنیا میں کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اس لئے اب کسی کے اوپر عذاب متأصل بھی نہیں آئے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page