سوال و جواب
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال ماحولیاتی پراblem (Ecological Problem) کے بارے میں اسلام کیا رہنمائی دیتا ہے۔ آج کل کے زمانہ میں ساری دنیا میں اس مسئلہ کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلہ پر بہت زیادہ سوچ بچار ہو رہا ہے۔ اگر ممکن ہو تو بتائیں کہ اسلام میں اس مسئلہ کے بارے میں کیا روشنی ڈالی گئی ہے؟۔ (کرس فلپاٹ (Chris Philpott برمنگھم) جواب ماحولیات کا مسئلہ کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ فطرت کا قائم کیا ہوا نظام بگڑ جائے ۔ ائر پولیوشن، واٹر پولیوشن ، گلوبل وارمنگ ، وغیرہ مسائل اس لئے پیدا ہوئے کہ جدید انڈسٹری یا جدید مشینی تہذیب کی وجہ سے فطرت کا بنایا ہوا نظام اپنی اصل حالت پر قائم نہ رہا، اس میں بگڑ آ گیا۔ اس معاملہ میں قرآن کی رہنمائی اس اصول پر قائم ہے کہ فطرت کے قائم شدہ نظام کو درہم برہم نہ کرو۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے دنیا کی ہر چیز معین مقدار میں بنائی (الحجر (۱۹) اسی طرح قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ خدا نے دنیا کا نظام کس طرح کامل انداز میں بنایا کہ تم اس کے اندر کوئی نقص نہیں پا سکتے (الملک (۳) اسی حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن میں انسان کو یہ حکم دیا گیا : لا تفسدوا في الارض بعد اصلاحها (الاعراف ۵۶) یعنی زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد ۔ اس طرح کی مختلف آیتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ہماری دنیا کو انتہائی متوازن (balanced) صورت میں بنایا ہے۔ اس کی ہر چیز انتہائی صحیح تناسب (right proportion) میں ہے۔ خدا جو اس دنیا کا مالک ہے اس نے اس دنیا کو انسان کے حوالے کرتے ہوئے یہ تاکید کی کہ تم کو یہ حق حاصل ہے کہ تم دنیا کو اپنے لئے استعمال کرو۔ مگر تم کو یہ حق حاصل نہیں کہ تم اس کو بگاڑو ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ترقی کا منصوبہ اس طرح بنائے کہ دنیا میں فطرت کا قائم کیا ہوا توازن ٹوٹنے نہ پائے۔ یہاں کی مختلف چیزوں میں جو تناسب رکھا گیا ہے، وہ جیسا ہے ویسا ہی باقی رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader