Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطابق، انسان کو ایک اصلاح یافتہ دنیا دی گئی ہے، انسان کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس اصلاحی حالت کو باقی رکھتے ہوئے اسے استعمال کرے۔ اگر انسان اس اصلاح میں خلل ڈالے اور وہ مسئلہ پیدا کرے جس کو مالیاتی مسئلہ کہا جاتا ہے تو خدا کے نزدیک وہ ایک مجرم قرار پائے گا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے چندن کے لئے کسی شخص کو اپنے گھر میں مہمان رکھا۔ اب اگر وہ سمجھ لے کہ وہ اس گھر کا مالک ہے اور اس احساس کے ساتھ وہ گھر کی چیزوں کو بے قید طور پر استعمال کرنے لگے اور گھر کے اندر چیزوں کا جو نظم ہے اس کو بگاڑ ڈالے تو وہ مہمان نہ رہے گا بلکہ مجرم بن جائے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا خدا کا ایک عالمی گسٹ ہاؤس ہے۔ انسان کو خدا نے اس گسٹ ہاؤس میں محدود مدت تک رہنے کی اجازت دی ہے۔ انسان اگر اصل مالک کی مرضی کے مطابق ، یہاں رہے اور گسٹ ہاؤس کے نظام میں خلل ڈالے بغیر اس کو استعمال کرے تو یہ اس کا جائز حق ہوگا، لیکن اگر وہ خود اپنے آپ کو اس عالمی گسٹ ہاؤس کا مالک سمجھنے لگے اور اس کے اندر قائم کئے ہوئے نظام کو درہم برہم کر دے تو اس کی حیثیت ایک ایسے مجرم کی ہو جائے گی جس کو انعام دینے کے بجائے ذلت کی سزا دی جائے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو ماحولیاتی مسئلہ موجودہ زمانہ میں پیدا ہوا ہے اس کو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت بے حد اہم ہے : ظھر الفساد فی البر والبحر بما كسبت ايدى الناس ليذ يقهم بعض الذى عملو العلهم يرجعون (الروم (۴۱) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ، تاکہ اللہ مزا چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا ، شاید کہ وہ باز آئیں ۔ اس آیت میں عین انہی ماحولیاتی مسائل سے پیشگی طور پر خبر دار کیا گیا ہے جو آج انسان کو درپیش ہیں۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق ، جو ماحولیاتی مسائل آج پیش آرہے ہیں، انسان کو چاہئے کہ وہ ان ماحولیاتی مسائل کو وارنگ کے طور پر لے اور اپنی روش میں اصلاح کر کے دنیا کو دوبارہ اس اصلاحی حالت کی طرف لے جائے جو کہ صنعتی دور سے پہلے تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page