دیباچہ
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب الرسالة کی عبارت آپ نے غور سے نہیں پڑھی، ورنہ اس میں پوری بات موجود ہے۔ فعل بلا شبہ مطلوب ہے۔ مگر فعل یا کردار آدمی کی ذاتی ذمہ داری ہے نہ کہ دعوت کی شرط۔ آپ نے قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے اس سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ تبلیغ کے لئے عمل نہیں ہے۔ عمل بلا شبہ ایک شخص کی لازمی ذمہ داری ہے اور اس کے ترک پر اس سے یقیناً باز پرس ہوگی۔ مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ دعوت کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو پورے معنوں میں با عمل بن چکا ہو (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر /۸۵) سوال دریائے سندھ کے اس پار جو لوگ بستے ہیں ان کو خود مسلم فاتحین نے ہندو کہا تھا۔ اس کے مطابق ، ہمارا کہنا ہے کہ بھارت میں بسنے والے تمام لوگ ہندو ہیں۔ خواہ مذہب کے اعتبار سے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ پھر آپ لوگ اپنے آپ کو ہندو کہلانے کو کیوں برا مانتے ہیں؟۔ (نشانت کمار، نئی دہلی) جواب ہندوستان یا بھارت اس وقت مسلم زیر حکومت نہیں ہے۔ آزادی کے بعد یہاں کا سیاسی اور سماجی نظام دستور ہند کے تحت چل رہا ہے۔ اس دستور میں اس ملک کے تمام باشندوں کو انڈین بتایا گیا ہے۔ چنانچہ پاسپورٹ وغیرہ میں اس ملک کا ہر رہنے والا اپنے آپ کو انڈین لکھتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ اس ملک کے تمام باشندوں کی نیشنلیٹی ہندو ہے دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے تمام بسنے والوں کو ہندو کہا جائے تو ان کو سب سے پہلے دستور میں ترمیم کر کے اس کی متعلقہ دفعات کو بدلنا چاہئے۔ موجودہ حالت میں اس قسم کا مطالبہ کرنا دستور ہند کے خلاف ہے، اس لئے کسی کو ایسا کہنے کا حق ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader