سوال و جواب
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل ضرورت یہ ہے کہ ان جدید مواقع کو سمجھا جائے اور ان کو استعمال کیا جائے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اللہ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا کے ایک ایک گھر میں پہنچا دے گا۔ جدید مواصلاتی ذرائع نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ حق کی اشاعت کے خدائی منصوبہ کو مکمل کیا جاسکے۔ عقبہ بن نافع تابعی افریقہ میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے۔ وہ سمندر کے کنارے گھوڑے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ خدا کی قسم اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اس پار بھی وہاں انہوں نے اپنے ٹھورے پر پہنچتے ہوئے، انہیں جانا کہ اس سمندر کے اس پار بھی کچھ لوگ آباد ہیں تو میں وہاں تک پہنچتا تاکہ کوئی بھی شخص اللہ کا پیغام پانے سے محروم نہ رہے۔ مگر آج اس گلوبلائزیشن کی بنا پر ہم دنیا کے ہر خطے کے بارے میں تفصیل کے ساتھ جان چکے ہیں۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا ہے کہ ہم با آسانی ہر جگہ پہنچ سکیں۔ پھر اسی بنا پر یہ بھی ممکن ہوا ہے کہ جدید وسائل کو استعمال کرتے ہوئے لٹریچر اور دوسری صورتوں میں بہت کم مدت میں سچائی کا پیغام زمین کے ہر گوشہ میں پہنچایا جا سکے۔ سوال مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی تشدد پسندی کے موضوع پر کئی کتابیں اب تک شائع ہوئی ہیں آپ بھی اس موضوع پر لکھتے ہیں اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں۔ میں نے آپ کی تحریروں میں پایا ہے کہ آپ مسلمانوں کے اس تشدد کو غلط بتاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ درست ہے۔ کیوں کہ مسلمان اپنے جائز حق کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ رائے میں یہ اختلاف کیوں؟۔ (ایک قاری الرسالہ، کشمیر) جواب اپنے جائز حق کے لئے کوشش کرنا اور تشدد کا استعمال دونوں دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں کا حکم ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک کی حیثیت نظری اور اصولی ہے اور دوسرے کی حیثیت عملی طریق کار کی۔ اگر سوال یہ ہو کہ کسی شخص یا گروہ کو اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا درست ہے یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader