سوال و جواب
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں، تو ہر شخص یہ کہے گا کہ جائز حق کے لئے کوشش کرنا اصولاً بالکل درست ہے۔ مگر جہاں تک تشدد کا سوال ہے، وہ عملی طریق کار سے تعلق رکھتا ہے اور طریق کار کے بارے میں متفقہ طور پر یہ حکم ہے کہ پرامن طریق کار درست ہے اور پر تشدد طریق کار درست نہیں۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو اور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ پرامن طریق کار اختیار کرے یا پرتشدد طریق کار، تو لازماً اس کو پرامن طریق کار اختیار کرنا چاہیے اور پر تشدد طریق کار کو چھوڑ دینا چاہیے ۔ اپنے حق کے لئے پر امن طریق کار کے ذریعہ جدوجہد کرنا بالکل درست ہے مگر اپنے حق کے لئے پرتشدد طریق کار اختیار کرنا ہرگز درست نہیں۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ فریق ثانی جب تشدد کر رہا ہو تو ہم کیسے پرہیز کر سکتے ہیں، کیا ہم یک طرفہ طور پر مار کھاتے رہیں ۔ یہ بات بالکل غلط ہے ۔ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے دعوے کے مطابق، ان پر تشدد ہورہا ہے وہاں مسلمانوں نے خود ہی تشدد کا آغاز کیا۔ اس کے بعد فریق ثانی نے ان کے مقابلہ میں جوابی تشدد کیا۔ میرے علم کے مطابق، ہر جگہ ایسا ہی ہوا ہے۔ مسلمان اگر اپنی جدوجہد کو پرامن طریق کار کے حدود میں رکھتے تو ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ فریق ثانی انہیں اپنی گولی اور اپنے بم کا نشانہ بنائے۔ اس معاملے کے اصل ذمہ دار مسلم عوام نہیں ہیں بلکہ ان کے خود ساختہ لیڈر ہیں جو جوش دلا کر انہیں تشدد پر اکساتے ہیں۔ یہ مسلم لیڈر دور جدید کی ایک اہم حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ دور جدید کے مانے ہوئے اصول کے مطابق ، پرامن جدوجہد مکمل طور پر جائز ہے اور پرتشدد جدوجہد مکمل طور پر نا جائز ۔ یہ فرق آج عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اگر اس حقیقت کو جانتے اور اس کے مطابق مسلمانوں کی رہنمائی کرتے تو مسلمان ان تباہیوں سے بچ جاتے جو اس بین اقوامی اصول کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں انہیں پیش آرہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader