سوال و جواب
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال الرساله جولائی ۲۰۰۲ کے شمارے میں آپ نے صفحہ ۳۳ پر ”بے بنیاد سوچ“ کے عنوان کے تحت ایک مکالمہ تحریر فرمایا ہے جو ایک ہندواور مسلم کے درمیان ہے۔ ”مسلمان کا یہ کہنا کہ اسلام سچا ہے، اس لئے میں بھی سچا ہوں“۔ جہاں تک جملہ کے پہلے حصہ کا تعلق ہے وہ ایک حقیقت ہے لیکن یہ کہنا کہ اسلام سچا ہے اسلئے میں بھی سچا ہوں آج تک کسی مسلمان نے ایسا کہنے کی جرات نہیں کی اور نہ آئندہ کرے گا۔ دین کا سچا ہونا الگ بات ہے اور دین کے ماننے والوں کا سچا ہونا قطعی الگ۔ یہ ایک سراسر الزام ہے جو آپ نے ایک مسلمان پر عائد کیا ہے، ورنہ ہر مسلمان جانتا ہے اور اس کا اعتقاد بھی ہے کہ اس کے کسی بھی عمل کا سچ ہونا صرف روز محشر ہی میں ثابت ہوگا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنی مثال کو اور واضح کریں تا کہ جو الزام آپ نے ایک مسلمان پر لگایا ہے اس کی وضاحت ہو جائے اور تشویش دور ہو جائے۔ (محمد بشیر، گلبرگہ) جواب آپ نے الرسالہ جولائی ۲۰۰۲ (صفحہ ۳۳) کے مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ یہ اشکال نہ ہوتا۔ آپ اس کو دوبارہ پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کی غلط فہمی ختم ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ اس مضمون میں ہندواور مسلمان کے ”کیس“ کو بتایا گیا ہے، اس میں ان کے ”قول“ کو نہیں دہرایا گیا ہے۔ آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ کسی کے قول کو دہرانا ایک بات ہے اور اس کے کیس کو بتانا اس سے بالکل مختلف دوسری بات ہے۔ کیس اور قول کے اس فرق کو قرآن وحدیث کے مطالعہ سے بھی جانا جاسکتا ہے اور روزمرہ کے تجربہ سے بھی۔ اس غلط فہمی کی بنا پر آپ نے مذکورہ مضمون کو ”مکالمہ“ سمجھ لیا ہے اور اس کو الزام قرار دیا ہے۔ حالانکہ وہ مکالمہ نہیں ہے بلکہ وہ تجزیہ ہے۔ اگر آپ اس کو مکالمہ کے بجائے تجزیہ سمجھتے تو آپ کو ہر گز یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader