Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب جانور کو ذبح کرنا صرف مسلمان کا اصول نہیں، وہ فطرت کا عام اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی شخص حتیٰ کہ سوال کرنے والے لوگ بھی اس سے بری نہیں۔ دنیا میں بسنے والے انسانوں میں، بشمول ہندوستان، بیشتر لوگ حیوانی غذا استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ بظاہر حیوانی غذا نہیں لیتے وہ بھی بالواسطہ طور پر ایسا ہی کرتے ہیں۔ پانی، دودھ، سبزی، پھل یا کوئی بھی چیز جس کو انسان کھاتا ہے ان سب میں خورد بینی زندگیاں ہوتی ہیں۔ ان زندگیوں کو قتل یا ذبح کیے بغیر کوئی شخص و تحجیئر ین غذا بھی نہیں لے سکتا۔ جس کو اس معاملہ میں شبہ ہو اس سے کہیے کہ وہ دودھ کو خورد بین کے شیشے کے نیچے رکھ کر دیکھ لے۔ اصل یہ ہے کہ ذبح حیوان ہمارے لئے انتخاب (choice) کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے لئے مقدر (destiny) کا معاملہ ہے۔ موجودہ دنیا میں اس کے بغیر زندگی کا کوئی امکان ہی نہیں۔ موجودہ دنیا میں اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں ذبح حیوان کے بغیر جینا چاہے تو اس کو خود اپنے آپ کو ذبح کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ ایسے کسی انسان کے لئے یہاں صرف خودکشی کا امکان ہے، اس کے لئے زندگی کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ سوال میں انگریزی زبان میں کمزور ہوں۔ فکر و نظر کو تقویت بخشنے میں عربی کے ساتھ انگریزی کا کردار آپ خود اچھی طرح جانتے ہیں ۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے انگریزی زبان جس اصول و طریقہ کے مطابق سیکھی ہے اس سلسلہ میں کوئی نمونہ لکھ بھیجیں تا کہ میں اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوسکوں ۔ (رضوان اللہ الریاضی، ریاض) جواب کسی کا قول ہے کہ پڑھنے سے پڑھنا آتا ہے اور لکھنے سے لکھنا آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی زبان کو سیکھنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو فوراً شروع کر دے اور اس کو مسلسل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page