Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

جاری رکھے۔ اس معاملہ میں آدمی کا شوق اور اس کی محنت ہی اس کے سب سے بڑے معلم ہیں۔ میں نے افریقہ میں ایک تاجر کو دیکھا کہ وہ مسلسل انگریزی بولنے کی کوشش کرتا تھا۔ اگرچہ اس کی زبان میں گرامر کے لحاظ سے بہت سی غلطیاں ہوتی تھیں۔ کسی نے اس سے کہا کہ جب تم انگریزی نہیں جانتے تو تم کیوں بولتے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تاکہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آجائے: I speak incorrect english. so that I maybe able to speak correct English. سوال آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ مسلمان ۲۰۰ سال سے ملٹنسی (militancy) کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے ایسا لکھا ہے اور اگر لکھا ہے تو کس دلیل کی بنیاد پر لکھا ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری الرسالہ۔ ابوظہی) جواب ایسا میں نے کبھی نہیں لکھا۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔ البتہ میں نے ایک اور بات لکھی ہے اور کچھ غیر ذمہ دار لوگ اس کو بگاڑ کر میرے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ جو لوگ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بن رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے: یحر فون الكلم عن مواضعه (المائدہ ۱۳) میں نے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر مسلم مقررین اور محررین دور جدید میں اسلامی جدوجہد کا آغاز ۱۷۹۹ اسے کرتے ہیں جب کہ میسور کے سلطان ٹیپو انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اگر ۱۷۹۹ء کو آغاز مانا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلمان ۲۰۰ سال سے اپنے مسائل کے حل کے لئے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ مسلح جد و جہد ابھی تک مختلف مقامات پر جاری ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ۲۰۰ سال کی اس مسلح جدوجہد کا کوئی بھی مثبت نتیجہ اسلام کے لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page