Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال حال ہی میں ہوئے بہار شریف میں فرقہ وارانہ ہندو مسلم فسادات کی خاص وجہ یہ تھی کہ ہندو ’درگا‘ کی مورتی لے کر مسلم محلہ میں آ گئے اور اشتعال انگیز نعرہ لگانے لگے کہ مسلمان ہندوستان کے غدار ہیں۔ مسلمان پاکستانی ایجنٹ ہیں، ان کو ہندوستان سے مار بھگاؤ۔ اس موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے تھا۔ (شاہ فیصل، ویاؤ نالندہ) جواب اس سوال کا جواب پیشگی طور پر خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق نے دے دیا ہے۔ وہ انھیں کے الفاظ میں یہ ہے: امیتو الباطتل با لصمت عنہ (باطل کو ہلاک کرواس سے چپ رہ کر) مذکورہ قسم کے مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ ان کے بارے میں خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اعراض سے یہ مسئلہ صرف دومنٹ کے نعرہ پر ختم ہو جاتا ہے اور جب اس طرح کے مواقع پر خاموشی کے بجائے جوابی اقدام کا طریقہ اختیار کریں تو غیر ضروری طور پر وہ برا انجام سامنے آ جاتا ہے جو بہار شریف اور بھاگلپور جیسے مقامات پر پیش آیا۔ سوال جہادِ کشمیر کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟۔ یہ کوئی اسلامی تحریک بھی ہے یا نہیں؟۔ (پیر محمد امین ترہگام، کشمیر) جواب میرے علم کے مطابق یہ اور اس قسم کی دوسری مسلح تحریکیں قومی لڑائی ہیں نہ کہ اسلامی جہاد۔ اسلام میں جہاد (معنی قتال) کوئی انفرادی یا جماعتی عمل نہیں ہے۔ وہ مکمل طور پر ریاست کا ایک عمل ہے۔ فقہ کا ایک متفقہ مسئلہ ہے کہ: الرحیل لللام ۔ یعنی کسی قوم کے خلاف جنگ کا اعلان کرنا حاكم کا کام ہے۔ اس قسم کی موجودہ جنگیں حکومتوں کی طرف سے نہیں لڑی جارہی ہیں بلکہ انفرادی اشخاص بطور خود یہ لڑائی لڑرہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ مزید یہ کہ کوئی مسلم حکومت اگر اس قسم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page