سوال و جواب
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
یا مسلمانوں کے لئے نہیں نکلا۔ اب بھی مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے شکایت اور احتجاج کی زبان بول رہے ہیں ۔ اس طرح یہ تمام لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ لمبی مدت تک اس مسلح جدوجہد کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔ اب میں کہتا ہوں کہ عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اپنے طریق کار کے بارے میں نظر ثانی (revision) کا عمل کیا جائے۔ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء میں آزادی کی تحریک مسلح انداز میں شروع کی گئی۔ جب وہ بے فائدہ ثابت ہوئی تو ۱۹۱۹ء میں اس طریق کار کو بدل کر آزادی کی تحریک کو پرامن طریق کار کے اصول پر چلایا گیا۔ خود اسلام کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار صحابہ کے ساتھ ۸ ہجری میں طائف کی طرف اقدام فرمایا۔ وہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ بروقت حالات موافق نہیں ہیں ۔ چنانچہ آپ نے طائف کا محاصرہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف واپسی کا فیصلہ فرمایا۔ اسی طرح غزوہ موتہ کے موقع پر ابتدائی جنگ کے بعد اندازہ ہوا کہ جنگ کا جاری رکھنا اہل اسلام کے حق میں نہیں ہے تو حضرت خالد درمیان ہی میں واپس ہو کر مدینہ آگئے، وغیرہ۔ میں اسی نظر ثانی (revision) کی بات کرتا ہوں ۔ میرا کہنا یہ ہے کہ ۲۰۰ سال کی مسلح جدوجہد نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلح طریق کار موجودہ حالات میں ہمارے لئے کارآمد نہیں ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسلح طریق کار کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور پرامن طریق کار کا تجربہ کریں ۔ پرامن طریق کار سے مراد ہے...... مسلمانوں کی داخلی اصلاح ، مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانا، مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا، مسلمانوں کو جدید اقتصادیات میں آگے بڑھانا، جدید وسائل کی مدد سے دعوت و تبلیغ کا کام کرنا، مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا وغیرہ۔ سوال آپ کے تعمیری انداز اور پلس طریق تعلقات اور دنیاوی اور دینی انداز عمل سے غیر متفق ہونے کا سوال ہی نہیں ۔ لیکن ہم تجربہ حاصل کر رہے ہیں کہ پریکٹیکل لائف میں خیالات کی صحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader