سوال و جواب
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
مندی کام دینے سے قاصر ہے۔ لوگ، بالخصوص دیگر اور الگ الگ مذاہب کے لوگ اب بالکل ہی بے حس ہو گئے ہیں، وہ دوسروں کی پرابلم کو یا اوروں کی مصیبتوں کو سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔ انجام کیا ہوگا؟۔ (عدنان کریمی، حیدر آباد) جواب موجودہ زمانہ کے مسلمان اور ان کے رہنما ایک تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ نماز روزہ کے مسائل اور حج کے آداب جیسے معاملات میں تو اسلام سے رہنمائی لینے کے لئے تیار ہیں۔ مگر جہاں تک ان کے ملّی اور قومی مسائل کی بات ہے تو وہ ان معاملات میں اپنی خواہشوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ میرے نزدیک اس تضاد کی موجودگی میں ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔ جب تک وہ اس تضاد سے باہر نہ آئیں، ان کا کوئی بھی دنیوی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس سے بھی زیادہ غیر اسلامی بات یہ ہے کہ الرسالہ میں جس ایڈجسٹمنٹ کی بات کہی جاتی ہے، ہر مسلمان، عوام اور خواص دونوں اپنے ذاتی معاملات میں عین اسی ایڈجسٹمنٹ کے فارمولا پر عمل کرتے ہیں۔ جہاں ان کے ذاتی انٹرسٹ کا مسئلہ ہو وہاں وہ فورا ایڈجسٹمنٹ کے اصول کو اختیار کر لیتے ہیں۔ البتہ جب انہیں ملی مسائل پر بولنا اور لکھنا ہو تو وہ ایڈجسٹمنٹ کو بزدلی کہہ کر اسے رد کر دیتے ہیں۔ انفرادی اور قومی زندگی کا یہ تضاد بلا شبہہ ایک جرم ہے۔ اس جرم کی موجودگی میں یہ امر بھی سخت مشتبہ ہے کہ دینی مسائل کے معاملہ میں ان کی مذکورہ روش اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول قرار پائے۔ آپ نے یہ شکایت کی ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مسلمانوں کے مسائل کے حل میں ان کی مدد نہیں کرتے۔ یہ ایک غیر ضروری شکایت ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوتا، حتیٰ کہ رشتہ داروں کے درمیان بھی نہیں۔ مسلمانوں کو یا تو اپنا مسئلہ خود حل کرنا ہوگا یا ان کے مسائل ہمیشہ غیر حل شدہ حالت میں پڑے رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader