دیباچہ
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
مقصد بھی تقسیم اور تفریق کی ذہنیت پر تنقید ہے نہ کہ تاریخی معنوں میں وجودِ پاکستان پر تنقید۔ آج یہ صورت حال ہے کہ دنیا کے جس ملک میں بھی مسلمان اس کے کسی خطہ میں اکثریت رکھتے ہیں وہاں وہ مرکزی لیڈر شپ سے ٹکراؤ کر کے اپنا علیحدہ مسلم پاکٹ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ذہنیت میرے نزدیک اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام پھیلاؤ کو پسند کرتا ہے نہ کہ سمٹنے کو۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی قوموں کو خدا کے سایہ رحمت میں لایا جائے نہ کہ ان کو غیر قوم قرار دے کر ان سے جدائی اختیار کر لی جائے۔ سوال مسلمانوں کے اندر باہمی مسلکی جھگڑے کیا اپنی جہالت کی وجہ سے ہیں یا اس کے لئے غیر قوموں کی طرف سے ہوادی جاتی ہے۔ یعنی یہ صورت حال مسلمانوں کی کسی داخلی کمزوری کا نتیجہ ہے یا وہ اغیار کی سازش کا نتیجہ ہے؟۔ (عبد الملک المظاہری، حیدر آباد) جواب قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارے اوپر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے (الشوریٰ ۳۰) اس کے مطابق ہمیں ہر مصیبت یا افتاد کا سبب خود اپنی کمزوریوں کو سمجھنا چاہئے نہ کہ اغیار کی مخالفانہ کارروائیوں کا نتیجہ ۔ یہ دنیا مسابقت کی دنیا ہے، اس لئے یہاں مسلمانوں کے خلاف سازشیں بھی ضرور ہوں گی ۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر اس کا حل دوسروں سے لڑنا نہیں ہے بلکہ اس کا حل قرآن کے مطابق ، یہ ہے کہ خود اپنے اندر تقویٰ اور صبر کی طاقت پیدا کی جائے۔ صبر اور تقویٰ ہر سازش کے خلاف یقینی ڈھال ہے ( آل عمران ۱۲۰) سوال آپ کی تحریروں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے کہ آپ شعوری یا لاشعوری طور پر تصوف کے نظریہ وحدت شہود کے قائل ہیں۔ کیا آپ غیر مسلموں کو اسلام کے قریب لانے کے لئے اس نظریہ کی وقتی ضرورت اور مصلحت کے تحت قائل ہیں یا یہ کہ باقاعدہ اسے ایک ابدی نظریہ اور حقیقت سمجھتے ہیں؟۔ (محمد اورنگ زیب صالح، اوکاڑی، پاکستان)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader