دیباچہ
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب وحدتِ وجود اور وحدتِ شہود دونوں ہی نظریہ کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ میں نے کبھی اپنی تحریروں میں ان کی تائید نہیں کی، نہ وقتی اور نہ مستقل۔ یہ دونوں نظریات لفظی فرق کے باوجود حقیقتًا ایک ہیں۔ وحدتِ وجود کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا جز ہیں، اور وحدتِ شہود کا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا مظہر ہیں۔ ان دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں کو خدا نے اپنے حکم سے پیدا کیا ہے۔ خالق الگ ہے اور مخلوق الگ۔ دونوں کے درمیان کوئی وجودی اشتراک نہیں۔ سوال میں الرسالہ کا قاری ہوں اور آپ جو کام کر رہے ہیں اس کا قدرداں ہوں۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ ہمارے ملک میں زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں رسالہ اور کتاب کے ذریعہ ان لوگوں تک دعوت نہیں پہنچائی جاسکتی۔ ہمیں ایسی کوئی ترکیب عمل میں لانا چاہئے کہ ایسے لوگوں تک بھی دعوت کا پیغام پہنچ سکے۔ (سید عبد الحفیظ، بھٹ گاؤں، جل گاؤں) جواب ہر زمانہ کی طرح آج بھی مسلمانوں میں خواص اور عوام دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس وقت دونوں ہی طبقوں میں اسلامی دعوت کا کام جاری ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے، تبلیغی جماعت ان کے درمیان وسیع اور مؤثر کام کر رہی ہے اور ماشاًا للہ اس کے مثبت نتائج بھی نکل رہے ہیں۔ ہم نے اصلاً خواص کے طبقہ کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ پچھلے پچیس سال کی کوشش کے نتیجہ میں آج یہ کہا جاسکتا ہے کہ خواص کے طبقہ میں اسلام کا پیغام وسیع پیمانہ پر پہنچ رہا ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی واضح طور پر نکل رہے ہیں۔ اس تحریک کے نتیجہ میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے ملکوں کے ہزاروں لوگوں کو از سرِ نو اسلام کی صداقت پر یقین حاصل ہوا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے ہندوستان کے مسلمانوں میں احتجاج اور ٹکراؤ کا مزاج بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ تعلیم اور تجارت جیسے تعمیری شعبوں میں سرگرم ہو رہے ہیں۔ یہ بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader