دیباچہ
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے زیادہ الرسالہ تحریک کا نتیجہ ہے۔ الرسالہ تحریک اگرچہ براہِ راست طور پر تعلیم یافتہ طبقہ تک پہنچی ہے مگر یہ تعلیم یافتہ لوگ اپنے اپنے حلقہ میں عوام تک بھی اس تعمیری آواز کو پہنچانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ سوال ماہنامہ الرسالہ کا میں ایک ریگولر ریڈر ہوں اور اس کو پسند کرتا ہوں، مگر کبھی کبھی آپ نزاعی معاملات میں پڑ جاتے ہیں جو آپ کو نہیں کرنا چاہئے۔ مثلاً بابری مسجد ،وندے ماترم جیسے ایشو میں پڑ کر آپ نے اپنے گو متنازعہ شخصیت بنا لیا۔ یہ آپ کے مثبت مشن کے لئے مفید نہیں (شفیع الدین احمد، دہلی) جواب کوئی بھی شخص جو اجتماعی تحریک چلائے۔ اس کے لئے نزاع سے بچنا ممکن نہیں۔ نزاع آپ کے اندر نہیں ہوتی بلکہ وہ دوسروں کے دماغ میں ہوتی ہے اور وہ اس کو آپ کے ساتھ منسوب کر کے غیر ضروری طور پر نزاعی بنا دیتے ہیں۔ کوئی شخص کتنا ہی محتاط ہو، وہ ایسے لوگوں کے زبان و قلم سے بچ نہیں سکتا۔ مثال کے طور پر سید ابوالحسن علی ندوی اپنی اعتدال پسندی اور غیر اختلافی روش کے لئے مشہور ہیں۔ مگر ان کے بارے میں بھی متعدد بار اخبار میں اس قسم کی باتیں آتی رہی ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال ہفت روزه نئی دنیا (دہلی) کے شمارہ ۱۷۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۸ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس میں ایک مسلم رہنما مولانا موصوف کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے کیا مطلب نکالا جائے کہ مولانا علی میاں اندر ہی اندر سازش کر رہے ہیں اور ایسے بیانات دے کر بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں ..... اور یہ کہ مولانا علی میاں اس سازش کو سمجھنے میں ناکام رہے اور مسلمانوں کو غلط مشورہ دے دیا ہے جس کی میں مکمل طور پر مخالفت کرتا ہوں ...... مولانا علی میاں کا بیان بی جے پی کے مقصد کو پورا کردے گا ..... میں مولانا علی میاں کی رائے سے بالکل اتفاق نہیں کرتا ہوں کیونکہ اس سے وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کی مسلمانوں کو تعلیم سے دور کرنے کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ انھوں نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنالی ہے جو مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader