دیباچہ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال آپ دعوتی نقطہ نظر سے ایک کام کر رہے ہیں لیکن اسی کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم دشمن عناصر کے لئے مواد فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً جا بجا مسلمانوں کی خامیوں کا ذکر کرنا وغیرہ ۔ اس سے انھیں موقع ملتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو مطعون کر سکیں۔ آپ کو اس سے احتراز کرنا چاہئے ۔ (محمد خالد ندوی، دہلی) جواب الرسالة کا مقصد خاص طور پر مسلمانوں کی اصلاح ہے۔ اسی لئے میں الرسالہ کو ایک نصیحت نامہ کہتا ہوں ۔ نصیحت کا یا اصلاح کا طریقہ کیا ہے اس کو جاننے کا واحد ذریعہ قرآن ہے۔ نصیحت یا اصلاح کے بارے میں قرآن کا جو اسلوب ہے وہی اسلوب میں اختیار کیا ہے اور قرآن کا اسلوب اس معاملہ میں یہی ہے کہ جہاں کوئی داخلی کو تاہی نظر آئے اس کو کھلے طور پر ظاہر کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں مذکورہ قسم کے اندیشے کا لحاظ کرنا قرآنی اسلوب کے سراسر خلاف ہے اور اسی لئے بے فائدہ بھی ۔ مثال کے طور پر غزوہ بدر کے بعد دشمنوں کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے ۔ چند صحابہ (حضرت عمر فاروق اور حضرت سعد بن معاذ ) کی رائے یہ تھی کہ ان کے جنگی جرم کی بنا پر انھیں قتل کر دیا جائے۔ لیکن اکثر صحابہ بشمول حضرت ابوبکر اور خود رسول اللہ ﷺ کی رائے یہ ہوئی کہ فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دیا جائے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب اترا اور فرمایا کہ ..... تم دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ چاہتا ہے آخرت (الأنفال ۶۷) یہ آیت بظاہر یہ بتاتی ہے کہ صحابہ کی اکثریت خدا نخواستہ حب مال میں مبتلا ہو گئی تھی ۔ اگر نصیحت کا مذکورہ معیار درست ہو تو قرآن کو مسلمانوں کی اس کمزوری کا اس طرح اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا کیوں کہ اس طرح اغیار کو یہ کہنے کا موقع مل رہا تھا کہ ہم لوگوں کی ساری جدوجہد مال کے لئے ہے ۔ اس اندیشے کے باوجود قرآن میں مذکورہ تنبیہ نازل کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق نصیحت کے معاملہ میں مذکورہ قسم کا اندیشہ سراسر غیر معتبر ہے ۔ اس معاملہ میں حقیقت حال کو جیسا ہے ویسا ہی بیان کیا جائے گا ۔ اس معاملہ میں اخفا کا طریقہ اختیار کرنا اگر مطلوب ہوتا تو قرآن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader