دیباچہ
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
میں مذکورہ آیت ہرگز نازل نہ ہوتی (اس طرح کی کئی اور مثالیں قرآن میں موجود ہیں) سوال آپ کہتے ہیں کہ اسلام کی پرامن تبلیغ ہونی چاہیے۔ مگر نبیوں کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہر نبی کو وقت کے اقتدار سے سنگھرش کرنا پڑا۔ ہمیشہ حق کو باطل سے مقابلہ آرائی کرنا پڑا اس لئے پرامن تبلیغ کس طرح ہو سکتی ہے؟۔ (شکیل احمد، ورورہ مہاراشٹر) جواب ہر نبی نے اقتدار کے خلاف جنگ کی...... یہ خود ساختہ مفروضہ ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ جنگ کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ دفاع سے ہے۔ ناگزیر حالات میں حسب استطاعت دفاع کیا جاتا ہے۔ کسی نبی کی تاریخ میں اگر جنگ کا واقعہ پیش آیا تو وہ جارحیت کے خلاف دفاع کے لئے ، اپنے پیغام کی اشاعت کے لئے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر کا اپنے ہم عصر لوگوں سے جو ٹکراؤ پیش آیا وہ ایک زمانے کی چیز تھی۔ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا اس لئے ہر مذہب کے مقابلہ میں تشدد کا تجربہ پیش آتا ہے۔ مگر اب آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ اب اظہار رائے کی آزادی کو ہر انسان کا لازمی حق سمجھا جاتا ہے اس لئے اب اگر صحیح اسلوب میں دعوت کیا جائے تو عملاً تشددانہ رد عمل پیش آنے کا کوئی امکان نہیں۔ سوال قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: کان حقا علینا نصر المومنین (الروم ۴۷) اس آیت کا ترجمہ حضرت شیخ الہند نے اس طرح کیا ہے کہ: اور حق ہے، ہم پر مدد ایمان والوں کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکل اوقات میں خدا ضرور اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ حتی کہ وہ اس کو اپنے اوپر اہل ایمان کا حق سمجھتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں پچھلی کئی نسلوں سے مسلمان تقریباً ساری دنیا میں اغیار کی زیادتیوں کا مسلسل شکار ہورہے ہیں مگر ان پر خدا کی وہ مدد نہیں آتی جو زیادتیوں کا یہ سلسلہ ختم کردے اور مسلمانوں کو دوبارہ سر بلند کردے اور اس طرح ہمارے اوپر خدا کا وعدہ پورا ہو ۔ (عبد الرحیم امدادی، مرشد آباد)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader