دیباچہ
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلاشبہ برحق ہے۔ مگر اس آیت میں مومنین کے لفظ سے مراد عمومی مفہوم میں مسلم ملت یا مسلم قوم نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو خدا کے مطلوب مشن کو لے کر اٹھیں جس کورسول اللہ کے زمانہ کے اہل ایمان لے کر اٹھے تھے اور اس میں اپنی جان و مال کی قربانی دی تھی۔ جب اہل ایمان کا کوئی گروہ اس قسم کا ربانی مشن لے کر اٹھے اور کچھ لوگ اس کو چیلنج کریں تو ان کا یہ چیلنج خود خدا کے خلاف چیلنج کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں کی مخالفانہ کاروائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے خلاف ہوتی ہے نہ کہ محض اہل ایمان کے خلاف ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا ایسے اہل ایمان کی مدد پر آجاتا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔ ان کی ان مقابلہ آرائیوں میں خواہ اسلام کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے ، ہر حال میں وہ مسلمانوں کی اپنی قومی یا سیاسی لڑائیاں ہیں۔ خدا کا مذکورہ وعدہ موجودہ قسم کی قومی لڑائیوں پر نہیں ہے بلکہ وہ اصحاب رسول جیسی خالص دینی جد و جہد کے اوپر ہے۔ یہ معاملہ قرآن کی آیتوں میں بالکل واضح ہے مثال کے طور پر فرمایا کہ ” انتنصرو الله ينصرکم “ (محمد - ۸) یعنی اگر تم اللہ والا کام کرنے کے لئے اٹھو گے تو اللہ تمہاری مدد کر کے تم کو کامیاب بنائے گا ۔ اس سے واضح ہے کہ مدد کا وعدہ اللہ والے کام پر ہے نہ کہ مسلمانوں کے اپنے قومی کاموں پر۔ سوال کیا آپ اس حقیقت سے انکار کریں گے کہ ہندوؤں ہی کی طرح انگریز بھی ہمارے مدعو تھے۔ آخر ان کو ملک سے نکال باہر کرنے کی تحریک کس دعوتی جذبے کے تحت درست قرار دی جاسکتی ہے۔ غالباً آپ اس پر اس لئے تنقید نہیں کرتے کہ یہ ایک ناگزیر تاریخی عمل تھا ۔ میرے نزدیک یہی اصول تحریک پاکستان کے معاملہ میں بھی کارفرما ہے۔ (طالب محسن ، لاہور ) جواب ہندوستان میں ملکی آزادی کی جو تحریک چلائی گئی اس میں اگر چہ علماء بڑی تعداد میں شریک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader