دیباچہ
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے ۔ مگر میں اس کو کوئی اسلامی تحریک نہیں سمجھتا اور نہ اس کے لئے جہاد آزادی کے لفظ کا استعمال شرعاً درست سمجھتا ہوں ۔ یہ بات میں نے بار بار رسالہ میں اور اپنی کتابوں میں لکھی ہے ۔ میرے نزدیک آزادی کی یہ تحریک ایک قومی تحریک تھی اور اسی اعتبار سے اس کا جواز ہے۔ اگر پاکستان کی تحریک کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ وہ ایک قومی تحریک تھی نہ کہ کوئی اسلامی تحریک تو اس کے بارے میں بھی میری رائے مختلف ہو جائیگی ۔ میں نے بار بار لکھا ہے کہ جن علماء نے انگریزوں کے خلاف سیاسی آزادی کی تحریک چلائی انھیں انگریزوں کے معاملہ میں دعوتی تحریک چلانا چاہیئے تھا ۔ اسی طرح جن مسلم رہنماؤں نے ہندو مسئلہ کے خلاف علیحدہ پاکستان کی تحریک چلائی ، ان کے لئے بھی زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ ہندوؤں کے مقابلہ میں دعوت کی تحریک چلاتے ۔ میری ایک ہی رائے دونوں قسم کے مسلم رہنماؤں کے بارے میں ہے ۔ سوال آپ کہتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے ۔ مگر قرآن میں اس کا بالکل الٹا ہے۔ قرآن میں مسلمانوں کو قتال کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو مارو ۔ قرآن اسلام کی مقدس کتاب ہے۔ پھر اسلام امن کا مذہب کیسے ہو سکتا ہے؟ ( بیکنتھ لال شرما پریم ، نئی دہلی ) جواب قرآن میں جہاں قاتلو المشرکین کا حکم آیا ہے ، وہ عام معنی میں نہیں ہے ، بلکہ خاص معنی میں ہے۔ اس سے مراد ساری دنیا اور ہر زمانہ کے مشرکین نہیں بلکہ پیغمبر اسلام کے معاصر مشرکین ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو پیغمبر اسلام کے خلاف جارحیت کر رہے تھے ۔ جنھوں نے آپ کے خلاف یک طرفہ طور پر جنگ چھیڑ دی تھی ۔ ان سے دفاع کے طور پر لڑنے کا حکم دیا گیا ۔ اسلام میں صرف ایک ہی جائز جنگ ہے اور وہ دفاع کی جنگ ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور جنگ اسلام میں جائز نہیں ۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ’’فکر اسلامی‘‘) قرآن میں قتال کے حکم کو آپ گیتا کے تقابلی مقابلہ سے سمجھ سکتے ہیں ۔ گیتا ہندوؤں کی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader