دیباچہ
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
مقدس کتاب ہے۔ اس میں کرشن جی ارجن کولڑنے پر ابھارتے ہیں ۔ وہ ارجن سے کہتے ہیں کہ تم یدھ کے لئے آگے بڑھو۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گیتا اپنے ماننے والوں سے کہتی ہے کہ تم لوگ ہمیشہ اور ہر جگہ دوسری قوموں سے لڑتے رہو۔ تم ہر ایک کے خلاف مار کاٹ کرو۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ گیتا میں کرشن جی کی جنگی تلقین وقتی معنی میں ہے نہ کہ ابدی معنی میں۔ یعنی تمہارے سامنے جو اپناتی لوگ ہیں ان سے لڑو۔ انھیں پر یہ جنگ ہوئی اور انھیں پر ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح قرآن میں جس جنگ کا حکم ہے وہ پیغمبر کے زمانے کے ایک جارج گروہ کے خلاف تھی۔ یہ جنگ انھیں پر شروع ہوئی اور انھیں پر ختم ہوگئی۔ بعد کے زمانہ میں اس کا حکم اگر باقی ہے تو صرف جارحیت کرنے والوں کے مقابلہ میں دفاع کے لئے ہے نہ کہ عمومی طور پر لوگوں سے لڑنے مرنے کے لئے۔ سوال اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اخلاص میں برکت ہے۔ جو کام اخلاص کے بغیر کیا جائے اس میں کوئی برکت نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں (شاہ فیصل، دہلی) جواب یہ کوئی پراسرار بات نہیں ۔ یہ ایک سادہ حقیقت ہے۔ اس کو مذہب کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہیں گے کہ اخلاص میں برکت ہوتی ہے اور فطرت کی زبان میں کہنا ہو تو یہ کہا جائے گا کہ تاثیصرف اس کام میں ہے جس کو انسانی درد کے ساتھ کیا گیا ہو۔ پروفیشنل طور پر کئے گئے کام میں کوئی تاثیرہیں ہو سکتی ۔ برکت یا تاثیر کا تعلق صرف بات سے نہیں ہے بلکہ اس سے ہے کہ بات کو کس طرح کہا گیا ہے ایک پیشہ ور گیت کا مترنم لہجہ میں اخلاق اور محبت کا گیت گائے تو سننے والے اس سے وقتی لطف لے سکتے ہیں مگر اس کا یہ نتیجہ نہیں ہو سکتا کہ سننے والے اپنی عملی زندگیوں میں غیر اخلاقی روش کو چھوڑ دیں اور اخلاقی قدروں کو اپنی زندگی میں اختیار کرلیں ۔ کیوں کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر پہلے ہی سے جانتے ہیں کہ یہ آدمی ذاتی مفاد کے لئے ایسا کر رہا ہے نہ کہ حقیقت اصلاح انسانیت کے لئے۔ اس کے برعکس با مقصد اور درد مند آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ صبح وشام اس لئے تڑپ رہا ہوتا ہے کہ لوگ بے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader