دیباچہ
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
اخلاقی کا طریقہ چھوڑ دیں اور با اخلاق زندگی اختیار کریں۔ وہ اپنی تنہائیوں میں لوگوں کی اصلاح کے لئے دعائیں کرتا ہے۔ وہ رات دن سوچتا ہے کہ بات کو کس طرح زیادہ بہتر انداز میں کہے جو لوگوں آنسوؤں سے بنی ہوئی سیاہی کے لئے مؤثر ہو سکے۔ اخلاق اور روحانیت اس کے لئے صرف کہنے کی بات نہیں ہوتی بلکہ وہ عمل کرنے کی بات ہوتی ہے۔ وہ اس کو جنت اور جہنم کا مسئلہ سمجھتا ہے، اس لئے دوسروں کو سنانے سے پہلے وہ خود اس کا عملی پیکر بن جاتا ہے۔ وہ کہنے سے پہلے کرنے والا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کا کہنا صرف کہنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے دل کے درد کو انڈیلنا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اور بولنا صرف لکھنا اور بولنا نہیں ہوتا بلکہ اس میں اس کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے قلم کی سیاہی بازار کی سیاہی نہیں ہوتی بلکہ وہ بہو ہوتی ہے۔ اس کی آواز ہوا کی لہروں پر سفر نہیں کرتی بلکہ وہ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ایک روح سے نکل کر دوسری روح تک پہنچتی ہے۔ اسی کا نام اخلاص ہے اور جو بات اس اخلاص کے ساتھ نکلے وہ از دل خیز و بر دل ریز کی مصداق ہوتی ہے، الا یہ کہ سننے والا ایک ایسا انسان ہو جس کے سینہ میں بدقسمتی سے دل ہی نہ ہو، ایسا آدمی پتھر کا ایک مجسمہ ہوگا نہ کہ حقیقہ کوئی زندہ انسان۔ سوال میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اکثر آپ کے خلاف بولتے ہیں۔ مگر وہ ہمیشہ عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان میں بولتے ہیں۔ وہ شوشے نکال کر آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ لوگ دلیل کی زبان میں آپ کی کاٹ کریں یا قرآن و حدیث کے حوالوں سے آپ کی بات رد کریں۔ آخر اس روش کے پیچھے نفسیات کیا ہے ۔ یہ لوگ کیوں ایسا کرتے ہیں جب کہ مجھے یقین ہے کہ اس قسم کی باتوں سے نہ آپ کی تردید ہوتی ہے اور نہ کوئی ان سے متاثر ہو سکتا ہے۔ (ڈاکٹر انوار الحق، اعظم گڑھ) جواب اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ آپ کے پاس اپنے حریف کے لئے اگر بم ہو تو آپ اس کے اوپر بم ماریں گے، آپ اس کی طرف کنکری نہیں پھینکیں گے۔ البتہ اگر آپ محسوس کریں کہ میرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader