دیباچہ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس اپنے حریف کے خلاف کوئی طاقت ورہتھیا نہیں تو دل کا بخار نکالنے کے لئے آپ اس کو گالیاں دیں گے۔ کنکری پھینک کر یہ تسکین حاصل کریں گے کہ آپ نے اس کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ جولوگ میرے خلاف عیب زنی اور الزام تراشی کی مہم چلا رہے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ دلائل کے اعتبار سے وہ بالکل بے بس ہیں۔ یہ الرسالہ کا ہر قاری جانتا ہے کہ میں جو کچھ لکھتا ہوں ہمیشہ قرآن وحدیث کے حوالوں کی روشنی لکھتا ہوں۔ ایسی حالت میں جولوگ میرے خلاف عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کریں انھوں نے صرف مجھ کو نشانہ نہیں بنایا۔ انھوں نے قرآنی دعوت کو رد کیا۔ انھوں نے اپنی زبان حال سے یہ کہا کہ ہم کو قرآن وحدیث سے کوئی مطلب نہیں، ہم کو صرف اپنے تعصبات سے مطلب ہے۔ بظاہر اگرچہ وہ مجھ کو برا بھلا کہتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ قرآن وحدیث کے مقابلہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ وہ نعوذ باللہ خدا اور رسول کی ناقدری کرنے کے مجرم بن رہے ہیں۔ ان حضرات کی یہ روش اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کے اس ارشاد کی مصداق ہے "یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں" (الانعام ۳۳) سوال کچھ مسلمانوں کو آپ سے جو شکایت ہے، وہ اس وقت شروع ہوئی، جب آپ آرایس ایس اور کٹر ہندوؤں کے جلسوں میں جانے لگے۔ مسلمان عام طور پر ان کو مسلم دشمن سمجھتے ہیں۔ اس لئے جب آپ ان کے جلسوں میں جانے لگے تو کچھ لوگوں کو آپ کے بارے میں شبہ ہوا کہ آپ خدا نخواستہ ان کے آلہ کار بن گئے ہیں ۔ یہ سوال ان مسلمانوں کے ذہن میں بھی ہے جو اسلام کے بارے میں آپ کی تحریروں کو بے حد پسند کرتے ہیں ۔ براہ کرم اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔ (عمران احمد اصلاحی، دہلی) جواب اس معاملہ میں لوگوں کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ تو میں ایک بھولی ہوئی سنت کو زندہ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader