Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

رہا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کا کافروں اور مشرکوں کی مجلسوں میں اور ان کے میلوں اور بازاروں میں جاتے تھے تا کہ انھیں اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ یہ لوگ خود اپنے اجتماعات ہی میں بڑی تعداد میں مل سکتے ہیں، کسی اور جگہ ہم ان کو نہیں پا سکتے۔ اس لئے ان کو عمومی طور اسلام سے متعارف کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ خود ان کے اجتماعات میں شرکت کی جائے ۔ آر ایس ایس کے لوگ میرے اس مقصد کو بخوبی جانتے ہیں ۔ چنانچہ آر ایس ایس کے انگریزی ( هفت روزہ آرگنائزر ، دہلی ) نے میرے بارے میں دو قسطوں میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا : ایک مبلغ مولانا (A Missionary Maulana ) آر ایس ایس کے ایک لیڈر ڈاکٹر چندر شرما نے ہندی اخبار راجستھان پتریکا میں میرے بارہ میں ایک مضمون شائع کیا جس میں انھوں نے لکھا کہ دوسرے مسلمانوں کا طریقہ عداوت کا ہے اور مولانا کا طریقہ دعوت کا۔ دہلی کے فلکی آڈیٹوریم میں ایک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ دہلی کے آر ایس ایس حلقہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں صرف دو مقریر تھے۔ ایک میں اور دوسرے جناب اٹل بہاری واجپئی ۔ میں نے اپنی تقریر کا موضوع وما ارسلناک الا رحمة للعالمین بنایا اور تقریباً آدھ گھنٹہ کی پوری تقریر اسلام کے تعارف پر کی۔ اس کے بعد جناب اٹل بہاری واجپئی اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کی اور شروع ہی میں مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مولانا صاحب، یہ وہا چر پنچ ہے، یہ پرچار منچ نہیں ہے۔ اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ میں کٹر ہندوؤں کے جلسوں میں جاتا ہوں تو وہاں میں اپنی تقریر میں کیا بات کہتا ہوں ۔ جو لوگ پابندی کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میری زندگی کا واحد مشن دعوت ہے۔ اسلام کے پیغام رحمت کو تمام قوموں تک پہنچانا۔ اسی کو میں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ میں مسلسل یہی کام کر رہا ہوں۔ آر ایس ایس کے جلسوں میں جانا بھی اسی سلسلہ تعارف کی ایک کڑی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام اجنبی ہو جائے گا۔ موجودہ زمانے میں چونکہ غیر مسلموں میں جا کر انھیں اسلام کا پیغام پہو نچانے کا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے اسلئے کچھ لوگ اس کو اجنبیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page