دیباچہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے یہ یقین ہے کہ میرا یہ عمل ایک عبادت ہے ۔ میں اللہ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ کام انشاء اللہ اس مخصوص دینی عمل میں شمار کیا جائے گا جس کو حدیث میں مردہ سنت کو زندہ کرنے کا نام دیا گیا ہے۔ روایتی دین پر عمل کرنے والا فورا لوگوں کی نظر میں مقبول بن جاتا ہے۔ لیکن متروک دین پر عمل کرنے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دین کے متروک جزء پر عمل ہمیشہ نہایت مشکل کام ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ....... ان عظم الجزاء مع عظم البلاء (الترمذی، کتاب الزھد) سوال آج کل ہر جگہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ ہو رہا ہے ۔ ہر جگہ مسلمان ہی نقصان میں رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟۔ کہا جاتا ہے کہ ہم کو مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔ کیا۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمان ہونے کی بنا پر ہمارے خلاف یہ زیادتیاں کی جارہی ہیں؟ ۔ (نسیم علی خان، بمبئی) جواب قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات بالکل غلط ثابت ہوتی ہے۔ دور اول کے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا کہ : وما اصابکم من مصيبة فبما كسبت ايديكم (الشوری ۳۰) یعنی جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس آیت کے مطابق ، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب کسی مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ مفروضہ دشمنوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہر اکراس کی شکایت کرنے لگے۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے کہ کوئی شخص مستقل طور پر کسی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آدمی کی اپنی کمزوری دوسروں کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اس کو اپنی ظالمانہ کاروائیوں کا نشانہ بنائے۔ جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے تو قرآن میں بار بار یہ ضمانت دی گئی ہے کہ اہل ایمان اگر صحیح معنوں میں دینی روش پر قائم ہوں تو وہ کبھی بھی اغیار کے ظلم یا سازش کا نشانہ نہیں بنیں گے۔ اس سلسلہ میں قرآن سے چند حوالے یہاں نقل کئے جاتے ہیں، مثلاً قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ: تم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader