Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو (آل عمران ۱۳۹) اسی طرح فرمایا: اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں کے اوپر کوئی راہ نہیں دے گا (النساء ۱۲۱) مزید فرمایا کہ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ (آل عمران ۱۲۰) قرآن کے ان ارشادات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جب بھی اغیار کے ظلم و زیادتی کے شکار ہوں تو ہمیشہ اس کا سبب خود مسلمانوں کے اندر ہوگا نہ کہ مسلمانوں کے باہر۔ اس اصول کی عملی مثال یہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کو جب احد کی جنگ میں جان و مال کا سخت نقصان پیش آیا تو قرآن میں اس کا سبب خود مسلمانوں کے باہمی نزاع کو قرار دیا گیا (آل عمران ۱۵۲) اسی طرح حنین کی جنگ میں ابتدائی مرحلہ میں مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو اس کا سبب بھی قرآن میں خود مسلمانوں کے عجب کو قرار دیا گیا (التوبہ ۲۵) قرآن کے یہ ارشادات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ ایسے معاملات میں ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہئے ۔ وہ یہ ہے کہ ہم دشمنوں کی سازش کا انکشاف کرنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور نہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف منفی کاروائیوں میں لگ جائیں۔ اس کے برعکس ہمیں یہ کرنا چاہئے کہ ہم خود اپنا احتساب کریں ۔ ہم اپنی داخلی کمزوریوں کو تلاش کر کے ان کی اصلاح کریں۔ یہی اس معاملہ میں قرآنی ذہن ہے اور اس معاملہ کا قرآنی حل۔ سوال آپ نے اپنی کتاب ’اسلام دور جدید کا خالق‘ اور دوسرے کئی مضامین میں یہ لکھا ہے کہ جدید دور کی ترقیوں کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج کی دنیا میں ان ترقیوں کے لئے مسلمانوں کا نام نہیں لیا جاتا ۔ اس کی وجہ کیا ہے؟۔ کیا ایسا تعصب کی بنا پر ہے؟۔ (عمران احمد اصلاحی، دہلی) جواب یہ کوئی تعصب کا معاملہ نہیں ۔ بلکہ یہ ایک سادہ فطری معاملہ ہے۔ ہر گھر میں اور ہر سماج میں آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی کو جو عزت ملتی ہے وہ اس کے کارناموں کی بنیاد پر ملتی ہے نہ کہ ماضی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page