Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

کارناموں کی بنیاد پر۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے جدید تر ترقیاتی دور کا آغاز کیا۔ لیکن اگلے مرحلے میں وہ زوال کا شکار ہو گئے ۔ اگلے مرحلے کے تمام کام مغربی قوموں نے انجام دئے ۔ اس لئے ہر طرف انھیں کا نام لیا جانے لگا۔ مثلاً ہزاروں سال سے انسان دریاؤں کو معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش میں مبتلا تھا۔ مسلمانوں نے یہ کام کیا کہ دریاؤں کو معبودیت کے درجہ سے ہٹایا۔ مگر پانی کو اسٹیم پاور میں بدلنے کا کام اہل مغرب نے انجام دیا نہ کہ مسلمانوں نے۔ اسی طرح دنیا آفتاب پرستی میں مبتلا تھی۔ مسلمانوں نے انسان کو آفتاب پرستی کی ذلت سے نکالا۔ مگر آفتاب کو سولر انرجی میں تبدیل کرنے کا کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا نام ماضی کی تاریخ میں تو ضرور لکھا ہوا ہے مگر حال کی دنیا میں ان کا کوئی چرچا نہیں۔ یہی معاملہ تمام تر ترقیات کا ہے۔ جن چیزوں کو تمدنی ترقی کہا جاتا ہے وہ سب فطرت کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کو دریافت کر کے ان کو استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔ قدیم زمانے کا انسان فطرت کو معبود کا درجہ دیئے ہوئے تھا۔ اس بنا پر اس کے اندر فطرت کی تسخیر کا ذہن پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اہل اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے فطرت کو معبود کے بجائے مخلوق کا درجہ عطا کیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ تاریخ میں پہلی بار فطرت کی پرستش کے بجائے فطرت کی تسخیر کا عمل شروع ہو گیا۔ اسی کا براہ راست نتیجہ وہ تمام تر قیاں ہیں جو آج دنیا میں نظر آتی ہیں۔ سوال اسلام کے معاشی نظریات جو شروع کے دور میں نافذ کئے گئے تھے کیا وہ نظام آج کے دور میں کامیاب ہو سکتا ہے؟ جبکہ ساری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا رواج ہے۔ مختصر یہ کہ آپ اسلام کے معاشی نظریات کو عصری اسلوب میں کس طرح پیش کریں گے؟۔ (ڈاکٹر کلیم انصاری، دھولیہ) جواب میرے نزدیک اصل مسئلہ نظام کا نہیں ہے بلکہ افراد کا ہے۔ نظام افراد کو نہیں بناتا بلکہ یہ دراصل افراد ہیں جو نظام کو بناتے ہیں۔ خود اسلام کے دور اول کی تاریخ بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی جو لوگ (اسلامی نظام قائم کرو) کے نام پر نام نہاد انقلابی تحریکیں چلاتے ہیں اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page