Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

مفروضہ مخالفین اسلام کو گولی مار کر یا پھانسی دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلامی نظام قائم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ان کا یہ عمل اتنا زیادہ بے معنی ہے کہ وہ یا تو ان کی عقل کو مشکوک ثابت کرتا ہے یا ان کی نیت کو ۔ چونکہ عقل پر شک کرنا ادھون ہے اس لئے میں اس معاملہ میں اسی رائے کو اختیار کرتا ہوں ۔ کیوں کہ اس طرح نہ کبھی اسلامی نظام قائم ہوا ہے اور نہ وہ کبھی قائم ہو سکتا ہے ۔ اسلامی نظام قائم کرنے کی طرف پہلا انسان سازی ہے نہ کہ وہ توڑ پھوڑ یا تخریبی سیاست جو آج اسلامی نظام قائم کرنے کے نام پر مختلف مسلم ملکوں میں جاری ہے ۔ جہاں تک اسلام کے معاشی نظریات کو عصری اسلوب میں بیان کرنے کا سوال ہے اس پر موجودہ زمانہ میں بہت ہی یہی کناہیں شائع ہوچکی ہیں۔ مثال کے طور پر ایم عمر چھا پپر اکی کتاب: Towards a just Monetary System اس کتاب پر سعودی عرب کی طرف سے انعام بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر بہت سی کتابیں اردو، عربی اور انگریزی میں چھپ چکی ہیں۔ کتابوں کے علاوہ اس موضوع پر کثیر تعداد میں مقالات اور رپورٹیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ مگر عملًا ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے افراد کار موجودنہیں۔ مثال کے طور پر اسلام کے معاشی نظام پر لکھنے اور بولنے والے لوگ خود اپنے آپ کو غیر اسلامی معاشی نظام کا پرزہ بنانے پر راضی ہوجاتے ہیں، صرف اس لئے کہ اسلام کا معاشی نظام قائم کرنے میں انھیں فوری طور پر ذاتی فائدہ ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔ جبکہ اسلامی معاشی نظام کا پرزہ بننے میں فورا ہی ان کو بڑے بڑے مادی فائدے ملنے لگتے ہیں۔ سوال آج کل عالم اس کو کہا جاتا ہے جس کے نام کے ساتھ قاسمی، ندوی، مظاہری وغیرہ نسبتی لفظ لگا ہوا ہو ۔ کیا عالم کی یہ تعریف درست ہے؟ (مفتی محمد ظہیر قاسمی ، ناندیڑ) جواب عالم ہونے کے لئے مدرسہ سے تحصیل علم کی شرط درست ہے۔ مگر یہ شرط درست نہیں کہ نام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page