Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ قاسمی یا ندوی جیسا کوئی لفظ لگا ہوا ہو۔ نام کے ساتھ اس قسم کا لاحقہ لگانا اکابر علماء کی روایت نہیں، مثال کے طور پر مولانا محمود الحسن، مولانا حسین مدنی، مولانا اعزاز علی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا شبلی نعمانی جیسے افراد جو مسلمہ طور پر عالم تھے مگر انھوں نے اپنے نام کے ساتھ ایسا کوئی لاحقہ نہیں لگایا۔ کے ساتھ قاسمی یا ندوی جیسا کوئی لفظ لگا ہوا ہو ۔ نام کے ساتھ اس قسم کا لاحقہ لگانا اکابر علماء کی روایت نہیں، مثال کے طور پر مولانا محمود الحسن، مولانا حسین مدنی، مولانا اعزاز علی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا شبلی نعمانی جیسے افراد جو مسلمہ طور پر عالم تھے مگر انھوں نے اپنے نام کے ساتھ ایسا کوئی لاحقہ نہیں لگایا۔ کے ساتھ قاسمی یا ندوی جیسا کوئی لفظ لگا ہوا ہو۔ نام کے ساتھ اس قسم کا لاحقہ لگانا اکابر علماء کی روایت نہیں، مثال کے طور پر مولانا محمود الحسن، مولانا حسین مدنی، مولانا اعزاز علی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا شبلی نعمانی جیسے افراد جو مسلمہ طور پر عالم تھے مگر انھوں نے اپنے نام کے ساتھ ایسا کوئی لاحقہ نہیں لگایا۔ سوال ستمبر ۱۹۹۹ء کے اردو الرسالہ کے صفحہ ۴۶ میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے پہلے اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے مجھے بابری مسجد کے بارے میں بات چیت کے لئے بلایا تھا۔ پرائم منسٹر ہاؤس، نئی دہلی میں جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں بے اختیار رو پڑا۔ میں نے کہا بابری مسجد کو بچانے سے بھی بڑا مسئلہ ملک کو بچانا ہے‘‘ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپ حضرات ملک کے وزیر اعظم کے سامنے مسجد بچانے کے لئے نہیں، مسلمانوں کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ ملک کو بچانے کے لئے رو پڑے۔ ایک داعی کے لئے جس پر دنیا بھر کے لوگوں کی نظر لگی ہوئی ہو یہ بات کہنا دعوت کے لئے مضر ہے۔ لوگ اس کو لے کر چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔ احب البلاد الی اللہ مساجدها حدیث میں آیا ہے۔ آپ حضرات ملک کے لئے روتے ہیں لیکن مسجد کے لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page